Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

امریکا نے مصر، لبنان اور اردن کی مسلم برادر تنظیموں کو ’دہشت گرد‘ قرار دے دیا

امریکا نے مصر، لبنان اور اردن کی مسلم برادر تنظیموں کو ’دہشت گرد‘ قرار دے دیا
---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

امریکا نے مصر، لبنان، اردن میں سرگرم مسلم برادر تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کے بعد کیا گیا ہے۔

’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ نے مصر اور اردن کی مسلم برادر تنظیموں کو ’اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ‘ جبکہ امریکی محکمۂ خارجہ نے لبنان کی تنظیم ’الجماعۃ الاسلامیہ‘ کو ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ (FTO) کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ان تنظیموں پر فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت اور ’اسرائیلی مفادات کے خلاف سرگرمیوں‘ کا الزام ہے۔ 

امریکی محکمہ خزانۂ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ مسلم برادر تنظیمیں بظاہر فلاحی اور سیاسی تنظیمیں بن کر کام کرتی ہیں مگر پس پردہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتی ہیں۔

مصر کی مسلم برادر تنظیم کے قائم مقام سربراہ صلاح عبدالحق نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم تمام قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے کو چیلنج کرے گی۔

اِن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے اور اس کے پیچھے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔

امریکی پابندیوں کے تحت ان تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنا غیر قانونی ہوگا، ان تنظیموں کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور FTO قرار دی گئی تنظیم کے ارکان کے امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

واضح رہے کہ مسلم برادر تنظیم 1928ء میں مصر میں قائم ہوئی تھی اور اس کی شاخیں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ لبنان میں ’الجماعۃ الاسلامیہ‘ پارلیمان میں نمائندگی رکھتی ہے جبکہ اردن میں اس کی سیاسی جماعت اسلامی ایکشن فرنٹ نے 2024ء کے انتخابات میں 31 نشستیں حاصل کی تھیں۔

دوسری جانب مصر میں 2013ء سے مسلم برادر تنظیم پر پابندی ہے اور حکومت نے اس کے خلاف سخت کارروائیاں کی ہیں۔ مصر کی وزارتِ خارجہ نے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔

لبنانی تنظیم الجماعۃ الاسلامیہ نے امریکی فیصلے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا لبنان میں کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا اور امریکا کا یہ اقدام اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دیتا ہے۔

امریکا میں اس فیصلے کے بعد ٹیکساس اور فلوریڈا کی ریاستی حکومتوں نے بھی مسلم سول رائٹس تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کو مسلم برادر تنظیم کے ساتھ دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1546766″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com