ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے کچھ تجارتی ٹینکرز کے گزرنے کے معاملے نے عالمی توانائی اور شپنگ انڈسٹری میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خصوصاً اس وقت جب مرکوریا کے چیف ایگزیکٹو مارکو ڈونینڈ نے یہ بیان دیا کہ ان کی کمپنی اس حساس سمندری راستے سے جہاز نکالنے میں کامیاب رہی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے عام حالات میں دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ 2026 کی ایران جنگ کے دوران اس راستے پر شدید دباؤ، فوجی خطرات، بارودی سرنگوں، میزائل حملوں اور ایران کی جانب سے سخت وارننگز کے باعث سمندری ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی۔
ایسی صورتحال میں مرکوریا کے سربراہ کا یہ کہنا کہ “ہم جہاز باہر نکالنے میں کامیاب رہے” نہ صرف غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے بلکہ اس نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ نقل و حرکت ایرانی علم، اجازت یا کسی بالواسطہ انتظام کے بغیر ممکن تھی یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے جہازوں کو خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز مبینہ طور پر ایرانی اجازت کے منتظر تھے۔ دوسری جانب بعض بین الاقوامی مالیاتی اور شپنگ رپورٹس میں بتایا گیا کہ کچھ ٹینکرز اس کے باوجود خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
مرکوریا کے معاملے میں تنازع اس لیے مزید بڑھا کیونکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے یہ تو بتایا کہ جہاز نکالے گئے، مگر یہ نہیں بتایا کہ اس مقصد کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا گیا۔ کیا یہ راستہ معمول کے بحری حفاظتی انتظامات کے تحت کھلا، یا اس میں کسی ایرانی ادارے، بندرگاہی اتھارٹی، شپنگ نیٹ ورک یا پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ کسی فریق کے ساتھ رابطہ شامل تھا، یہ سوال تاحال جواب طلب ہے۔
فراہم کردہ مواد کے مطابق ایک متحدہ عرب امارات میں قائم ادارے نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں مرکوریا کا ایرانی شپنگ ادارے آئی آر آئی ایس ایل کے ساتھ رابطہ رہا۔ دعوے کے مطابق ایم پی ٹی کموڈٹیز نامی برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ادارہ آئی آر آئی ایس ایل سے خط و کتابت کے لیے استعمال کیا گیا، جس میں کاروباری تعاون کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مرکوریا کے مارکو ڈونینڈ اور لاوئے ابیولا کے ایران جانے کے انتظامات کیے گئے تھے، تاہم اس دورے کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی ذریعے نے کہا کہ اس نے مرکوریا کو ایرانی نیشنل آئل کمپنی اور آئی آر آئی ایس ایل سے رابطے میں مدد دی، لیکن وہ خود کسی براہِ راست ملاقات، کال یا کاروبار کا حصہ نہیں بنا۔
آئی آر آئی ایس ایل کی حساسیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ ادارہ ماضی میں امریکی پابندیوں کا شکار رہا ہے۔ امریکی حکام اس پر ایران کی دفاعی لاجسٹکس، فوجی سامان کی ترسیل اور پابندیوں سے بچنے کے لیے مبینہ غیر شفاف طریقوں میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
یہ پس منظر مرکوریا کے حالیہ بیان کو مزید اہم بنا دیتا ہے، کیونکہ اگر آبنائے ہرمز جنگی حالات میں ایرانی کنٹرول میں تھا، تو وہاں سے تجارتی ٹینکرز کا نکلنا معمولی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسی نقل و حرکت پابندیوں، انشورنس، بحری اجازت، عالمی توانائی سلامتی اور ممکنہ ادائیگیوں کے حوالے سے کئی قانونی اور پالیسی سوالات پیدا کر سکتی ہے۔
اس مرحلے پر یہ بات واضح ہے کہ فراہم کردہ معلومات میں کوئی ایسا آزادانہ تصدیق شدہ ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ مرکوریا یا اس سے منسلک کسی شخص یا ادارے نے پاسدارانِ انقلاب کو ادائیگی کی، پابندیوں کی خلاف ورزی کی، یا ایران کو اقتصادی سہارا فراہم کیا۔
تاہم مرکوریا کی جانب سے تفصیلی وضاحت نہ آنا معاملے کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہا ہے۔ عالمی کموڈٹی مارکیٹ میں کام کرنے والی بڑی کمپنیوں کے لیے شفافیت، پابندیوں کی پاسداری اور جنگی خطوں میں تجارتی سرگرمیوں کی وضاحت اب پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک کمپنی یا چند ٹینکرز تک محدود نہیں، بلکہ اس سے یہ بڑا سوال جنم لیتا ہے کہ جنگ، پابندیوں اور عالمی توانائی بحران کے دوران بڑی کموڈٹی کمپنیاں کس حد تک رسک لے سکتی ہیں، اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کون کرے گا۔



