Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

یومِ انسانی حقوق پر کشمیر کونسل ای یو کے زیر اہتمام کانفرنس

برسلز: یومِ انسانی حقوق پر کشمیر کونسل ای یو کے زیر اہتمام کانفرنس

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے کہا ہے کہ یورپی نوجوان کشمیریوں کے انسانی حقوق کو بہتر طور پر اجاگر کرسکتے ہیں۔

یومِ انسانی حقوق کے موقع پر کشمیر کونسل ای یو کے زیر اہتمام یورپی پریس کلب برسلز میں کشمیریوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی نوجوانوں کی ایک روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔

کانفرنس کا عنوان ’’امن کی جانب: مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیریوں کے انسانی حقوق کے احترام کی ضرورت‘‘ رکھا گیا تھا۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں نوجوان خاص طور پر مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء شریک ہوئے اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔

مقررین میں چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید، ممتاز دانشور شیراز راج، کونسلر چوہدری محمد ناصر، یورپی دانشور آندرے بارکس، پروفیسر روبینہ شاہ اور متحرک طلباء سلیمان صدیق، زروان غامدی، امینہ اقبال، شہزاد نواز، سید جعفر شاہ اور سید ہادی شاہ شامل تھے۔

مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان خلاف ورزیوں کی فوری روک تھام کی اپیل کی۔

انہوں نے یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی کےلیے مؤثر کردار ادا کریں، خاص طور پر حق خودارادیت کے حصول کے لیے کشمیریوں کی مدد کریں۔

مقررین نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے یورپ کے مختلف ملکوں کے نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا موقع فراہم کرتا ہے۔

برسلز: یومِ انسانی حقوق پر کشمیر کونسل ای یو کے زیر اہتمام کانفرنس

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں یورپی یونین کا کردار اہم ہے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ یورپی یونین کشمیریوں کے حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے اس کانفرنس کے انعقاد کو مسئلہ کشمیر پر کشمیرکونسل ای یو کی آگاہی مہم کی کامیابی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ یورپی نوجوان کشمیریوں کے انسانی حقوق کو بہتر طور پر اجاگر کرسکتے ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور تاکید کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں بند ہونے سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی راہ ہموار ہوگی۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال 10 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (1948) کی یادگار ہے، جو انسانی وقار، آزادی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کا اظہار ہے تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور احترام کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

اس سیمینار کی خاص بات شیراز راج کا لیکچر تھا جس میں نوجوانوں کو انسانی حقوق کے عالمی چارٹر میں طے کیے گئے حقوق کی فہرست میں موجودگی کی تاریخی وجوہات، اس کو تسلیم کرنے کے سماج اور سماجی ترقی پر مثبت اثرات اور ان میں سے کسی ایک کے بھی انکار کے نتیجے میں افراد سے لیکر سماج تک پر پڑنے والے منفی اثرات پر مختصر لیکن جامع انداز میں روشنی ڈالی گئی تھی۔ 

سیمینار میں پروفیسر روبینہ شاہ نے اپنی گفتگو کے بعد اپنا انگریزی کلام بھی پیش کیا جسے خوب سراہا گیا۔ جبکہ وقفے وقفے سے نظامت کرتے طلبہ کی جانب سے بھی پاکستان کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی شاعری اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں پیش کی جاتی رہی۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1419527″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com