Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

امریکا کے 6 جنریشن لڑاکا طیارے F-47 کی تیاری کا آغاز، پہلی پرواز کب تک متوقع؟

امریکا کے 6 جنریشن لڑاکا طیارے F-47 کی تیاری کا آغاز، پہلی پرواز کب تک متوقع؟
گرافک: یو ایس ایئرفورس
گرافک: یو ایس ایئرفورس

امریکی فضائیہ کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ’سکستھ جنریشن  لڑاکا طیارے F-47‘ کی پیداوار شروع ہو چکی ہے اور اس کی پہلی پرواز 2028ء تک متوقع ہے۔

یہ اعلان چین کی طرف سے حالیہ فوجی پریڈ میں اپنی نئی جنگی مشینری کی نمائش کے 3 ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والے’ایئر، اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس‘ کے دوران امریکی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل ڈیوڈ ایلون نے کہا کہ بوئنگ کمپنی نے F-47 کے پہلے یونٹ کی تیاری کا آغاز کر دیا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ یہ طیارہ ’نیکسٹ جنریشن ایئر ڈومیننس‘ (NGAD) پروگرام کے تحت F-22 کی جگہ لے گا۔

جنرل ڈیوڈ ایلون نے بتایا کہ ہمیں تیزی سے آگے بڑھنا ہے، ٹیم کا ہدف ہے کہ 2028ء تک یہ طیارہ فضا میں ہو۔ پچھلے کئی برسوں کی ریسرچ، سیکڑوں ٹیسٹنگ گھنٹے اور ہزاروں انسانوں کی محنت کے بعد ہم اس مقام پر پہنچے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف چند ماہ قبل ہونے والے اعلان کے بعد ہی بوئنگ نے پہلا یونٹ بنانا شروع کر دیا ہے، ہم تیار ہیں اور ہمیں تیز رفتاری سے کام جاری رکھنا ہوگا۔

یاد رہے کہ مارچ 2025ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر اعلان کیا تھا کہ بوئنگ کو NGAD کے تحت چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے کی تیاری کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ 

امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ F-47 کے تجرباتی ماڈلز 5 برس سے خفیہ طور پر اُڑائے جا رہے تھے اور اس کی پہلی پرواز سن 2019ء میں ہوئی۔

امریکی فضائیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ F-47 کی پہلی پرواز صدر ٹرمپ کے موجودہ دورِ صدارت کے اختتام سے قبل یعنی جنوری 2029ء سے پہلے ہو جائے گی۔

ماہرین کے مطابق چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے میں سپر سونیک تیز رفتاری، جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہتھیار اور ڈرون کے ساتھ کوآرڈی نیٹ کرنے کی صلاحیت شامل ہو گی۔

اس کے علاوہ، یہ طیارہ نا صرف دشمن کی فضائی طاقت کو چیلنج کرے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک سینٹرڈ وار فیئر کے ذریعے دیگر پلیٹ فارمز سے بھی روابط رکھے گا۔

چین کی طرف سے حالیہ فوجی پریڈ میں جنگی طیاروں اور ہائیپر سونک میزائلوں کی نمائش کے بعد امریکی اعلان کو ایک حکمتِ عملی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں فضائی بالادستی کی دوڑ میں یہ تازہ ترین اقدام ایک بڑا قدم ہے۔

امریکی فضائیہ نے F-47 کی تیاری کے لیے فنڈز کی منظوری پہلے ہی دے رکھی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے پر مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ NGAD پروگرام صرف ایک طیارے تک محدود نہیں بلکہ اس میں جدید ہتھیار، سینسر اور ڈرون سسٹمز کی ایک مکینزم شامل ہیں جس سے امریکا اپنی فضائی برتری کو 21 ویں صدی کے دوسرے عشرے تک برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1512865″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com