Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

برطانوی حکومت کی 20 برس سے قید ابو زبیدہ کو زرتلافی کی بھاری رقم کی ادائیگی

برطانوی حکومت کی 20 برس سے قید ابو زبیدہ کو زرتلافی کی بھاری رقم کی ادائیگی
ابو زبیدہ(تصویر سوشل میڈیا)۔
ابو زبیدہ(تصویر سوشل میڈیا)۔

برطانوی حکومت نے گوانتانامو بے جیل میں 20 برس سے قید ابو زبیدہ کو زرتلافی کے طور پر بھاری رقم کی ادائیگی کی ہے، ابو زبیدہ پر القاعدہ کا سینئر رہنما ہونے اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ 

لندن سے برطانوی میڈیا کے مطابق ابو زبیدہ کو بغیر کسی جرم ثابت ہوئے 20 سال سے گوانتانامو بے جیل میں رکھا گیا ہے۔ 

 برطانوی میڈیا کے مطابق ابو زبیدہ نے اپنے وکیل کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ فلسطینی نژاد ابو زبیدہ کو امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ 

میڈیا کے مطابق امریکی حکومت ابو زبیدہ کے القاعدہ کے سینئر رہنما ہونے کے دعوے سے دستبردار ہوچکی ہے۔ 

ابو زبید کی خاتون وکیل پروفیسر ہیلین ڈفی نے کہا کہ برطانوی حکومت کا یہ معاوضہ اہم اور بہت غیر معمولی ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ برطانیہ اور دیگر حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ابو زبیدہ پر تشدد اور غیر قانونی حراست کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ برطانیہ اور دیگر حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ابو زبیدہ کی رہائی یقینی بنائیں۔  

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ رپورٹ کے مطابق ابو زبیدہ کو دوران تفتیش 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔  

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ رپورٹ کے مطابق ابو زبیدہ کو تشدد کے ساتھ نیند سے بھی محروم رکھا گیا، ابو زبیدہ کو 11 دن کے لیے تابوت نما ڈبے میں بھی بند کیا گیا تھا۔  

برطانوی میڈیا کے مطابق سی آئی اے کی حراست کے دوران ابو زبیدہ کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی تھی۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ابو زبیدہ کو معاوضے کی صورت میں کتنی رقم ملے گی۔

تاہم انکی وکیل کا کہنا ہے کہ اچھی خاصی رقم ہے اور اس کی ادائیگی کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے، فی الحال ابو زبیدہ یہ رقم خود حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

ابو زبیدہ کے مقدمے کا جائزہ لینے والی برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ڈومینک گریو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابو زبیدہ کو زر تلافی ملنا ’غیر معمولی‘ ہے لیکن جو کچھ اُن کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بہت غلط ہے۔ 

برطانوی میڈیا کے مطابق بلیک سائٹس، سی آئی اے کی جانب سے قائم کیے گئے وہ حراستی مراکز ہیں، جن پر امریکی عدالتی نظام لاگو نہیں ہوتا، ابو زبیدہ وہ پہلے قیدی تھے جنھیں ان میں سے ایک مرکز میں منتقل کیا گیا تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اگر ابو زبیدہ جیسا تشدد انتہائی سخت جان امریکی کمانڈوز پر کیا جاتا تو ان میں سے 98 فیصد اسے نہ سہہ پاتے، برطانوی خفیہ اداروں کو ابو زبیدہ پر تشدد نہ کرنے کی یقین دہانی حاصل کرنے میں چار سال لگے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نےخود ابو زبیدہ کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

انکی وکیل نے کہا کہ برطانوی خفیہ ایجنسیوں نے ابو زبیدہ سے تفتیش کے لیے ایسے سوالات بھیجے، جس کی وجہ سے اُن پر تشدد میں مزید اضافہ ہوا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے معاملے پر بھی برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی تھی۔ کمیٹی نے سوال بھی اُٹھایا تھا کہ خالد شیخ محمد بھی برطانوی حکومت کے خلاف اس نوعیت کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1546111″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com