Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی سے روکنے کی جانب اہم قدم

امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی سے روکنے کی جانب اہم قدم

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کیلئے کانگریس سے منظوری درکار ہوگی، امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی سے روکنے کیلئے پیش کی گئی قرارداد بحث کیلئے منظور کرلی۔

یہ اقدام وینزویلا کے طاقتور رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے محض پانچ روز بعد سامنے آیا ہے۔

سینیٹ میں 52 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے وار پاورز ریزولوشن پر بحث کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد صدر کو کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ یہ قرارداد اب بھی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان سے مکمل منظوری کی محتاج ہے تاکہ قانون بن سکے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پانچ ریپبلکن سینیٹرز نے پارٹی لائن سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سینیٹ کے اس اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ووٹ امریکا کے دفاع اور قومی سلامتی کو کمزور کرتا ہے اور صدر کے بطور کمانڈر اِن چیف اختیارات میں مداخلت ہے۔ ٹرمپ نے وار پاورز ایکٹ کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔

دوسری جانب قرارداد کے حامی سینیٹرز کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو وینزویلا میں ’لامتناہی جنگ‘ کی طرف نہیں دھکیلا جا سکتا۔

 ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ کانگریس کا آئینی فرض ہے کہ وہ جنگ اور امن کے فیصلوں میں کردار ادا کرے۔

خیال رہے کہ وار پاورز ایکٹ کے تحت کانگریس سادہ اکثریت سے صدر کو کسی فوجی تنازع میں مداخلت سے روک سکتی ہے۔

 وائٹ ہاؤس نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ صدر نے امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے آئینی اختیارات کے تحت کارروائی کی۔

سینیٹ میں بحث کیلئے لائی گئی قرارداد کے حق میں 52 اور مخالفت میں 47 ووٹ آئے، ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے پانچ ارکان نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، ایک ری پبلکن سینیٹر نے ووٹ نہیں دیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے سینیٹ میں قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ری پبلکنز کو دوبارہ کبھی منتخب نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال سینیٹ میں اسی نوعیت کی قراردادوں کو آگے بڑھانے کی دو سابقہ کوششوں کو ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے روک دیا تھا۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1545010″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com