Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

نیتن یاہو نے قطری وزیر اعظم سے دوحہ حملے پر معافی مانگ لی، اسرائیلی اخبار

نیتن یاہو نے قطری وزیر اعظم سے دوحہ حملے پر معافی مانگ لی، اسرائیلی اخبار
اسرائیلی حملے کے بعد قطر نے مذاکرات میں ثالثی سے انکار کر دیا تھا۔ فوٹو: فائل
اسرائیلی حملے کے بعد قطر نے مذاکرات میں ثالثی سے انکار کر دیا تھا۔ فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی سے دوحہ پر 9 ستمبر کو ہونے والے اسرائیلی حملے پر معافی مانگ لی ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس سے جہاں وہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کیلئے موجود ہیں، قطری وزیراعظم سے کئی منٹ فون پر گفتگو کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور حملے میں ایک قطری سیکیورٹی اہلکار کے مارے جانے  پر افسوس کا اظہار کیا۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی یہ معافی موجودہ کوششوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جن کا مقصد غزہ جنگ کے خاتمے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔ 

واضح رہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد قطر نے مذاکرات میں ثالثی سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ دوحہ میں یہ حملہ حماس کے کئی اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، جو اس میں محفوظ رہے۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملے کیے، صہیونی فوج کا ہدف فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت تھی۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دوحہ میں حماس کے مذاکراتی رہنماؤں کو دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

تل ابیب سے جاری کیے گئے بیان میں اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ دوحہ میں دھماکے کے ذریعے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

حماس کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے کے وقت حماس کے متعدد رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا، اجلاس میں حماس رہنما غزہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر غور کر رہے تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی بم باری کے دوران اجلاس میں حماس کے 5 سینئر رہنما خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق موجود تھے، اجلاس کی صدارت سینئر رہنما ڈاکٹر خلیل الحیہ کر رہے تھے۔

ایک اسرائیلی عہدے دار کا کہنا تھا کہ دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملے سے پہلے امریکا کو اطلاع دی گئی تھی، امریکا نے حماس رہنماؤں پر حملے میں مدد فراہم کی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ قطر میں موجود حماس رہنماؤں پر حملہ انتہائی درست اور بہترین فیصلہ تھا۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1514847″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com