Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

ماں کے مرنے پر کوئی رشتہ دار نہیں آیا، 10 سالہ بچہ تنہا پوسٹ مارٹم کروانے پہنچ گیا

ماں کے مرنے پر کوئی رشتہ دار نہیں آیا، 10 سالہ بچہ تنہا پوسٹ مارٹم کروانے پہنچ گیا
فوٹو: بھارتی میڈیا
فوٹو: بھارتی میڈیا 

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع ایٹہ میں ایک دل سوز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک 10 سالہ بچے نے اپنی ماں کی میت کا پوسٹ مارٹم کروانے  کیلئے تنہا اسپتال پہنچا۔

یہ المناک واقعہ اس وقت سامنے آیا جب بچے کی 52 سالہ والدہ بدھ کے روز تپِ دق (ٹی بی) اور ایچ آئی وی کے علاج کے دوران اسپتال میں انتقال کر گئیں۔

خاتون کے انتقال کے بعد نہ کوئی رشتہ دار اور نہ ہی پڑوسی مدد کیلئے سامنے آیا، جس کے باعث آنسوؤں سے بھری آنکھوں والا بچہ صرف طبی عملے کے ساتھ لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے پہنچا۔

اسپتال میں فرش پر ماں کی لاش کے پاس بیٹھے بچے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ رپورٹس کے مطابق بچہ کئی گھنٹوں تک ماں کی لاش کے پاس بیٹھا رہا، یہاں تک کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس اسپتال پہنچی۔

 پولیس نے نہ صرف پوسٹ مارٹم کا انتظام کیا بلکہ خاتون کی آخری رسومات ادا کرنے میں بھی مدد کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون کو ضلع کے مقامی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ بچے کے والد گزشتہ برس ایچ آئی وی کے باعث انتقال کر چکے تھے۔

10 سالہ بچے نے بتایا کہ والد میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد معاشرے  نے ان کے خاندان سے تعلق ختم کر لیا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ پہلے اسکول جاتا تھا، لیکن والد کی موت اور ماں کی بیماری کے بعد تعلیم چھوڑ کر ماں کی دیکھ بھال کرنے لگا۔

بچے کا کہنا تھا کہ میں اپنی والدہ  کا خیال رکھتا تھا۔ ان کا علاج ایٹہ میں ہوا اور انہیں کانپور اور فرخ آباد کے اسپتال بھی لے جایا گیا۔ میرے چچا کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خاتون کا 2017 میں ٹی بی کا علاج کیا گیا تھا اور انہیں ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی گئی۔ 

ایس ایچ او  کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ ایک بچہ لاش کے ساتھ اکیلا موجود ہے۔ میں نے فوری طور پر سب انسپکٹر اور کانسٹیبل کو موقع پر بھیجا، بچے کا کوئی سہارا نہیں تھا، اس لیے ہم نے آخری رسومات کا انتظام کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بچے نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے رشتہ دار اس کی زمین ہڑپ کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

بچے کا کہنا ہے کہ رشتہ دار اس کی ماں کی بیماری سے آگاہ تھے، مگر اس کے باوجود خاندان کی جانب سے کسی قسم کی مدد نہیں کی گئی۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1547470″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com