اسلام آباد: سینیٹر نصیب اللہ خان بازئی اور ممبر بلوچستان اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے ممبر سپورٹ سروسز منسٹری آف فنانس پاکستان سرور گوندل اور ڈاکٹر امجد سندھو ڈائریکٹر جنرل ایڈمن مردم شماری سے بلوچستان بالخصوص ضلع کوئٹہ کی مردم شماری کے بارے میں ملاقات کی۔
تفصیلات کے مطابق، ملاقات کے دوران سینیٹر نصیب اللہ خان بازئی اور ایم پی اے نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ ضلع کوئٹہ کی آبادی 2017 کے مردم شماری میں 23 لاکھ کے لگ بھگ تھی مگر موجودہ 2023 کی مردم شماری میں کوئٹہ کی آبادی 19 لاکھ دکھائی گئی ہے جوکہ کوئٹہ کے عوام کے ساتھ ناانصافی اور غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ کی آبادی اس وقت کم از کم چالیس لاکھ سے زائد ہے۔کوئٹہ کو محکمہ شماریات نے مزید 15 دنوں کی توسیع کردی مگر اس کے باوجود آج 9 مئی کو ضلع کوئٹہ کی آبادی 2017 والی کوئٹہ کی آبادی 23 لاکھ کے برابر آچکی ہیں جوکہ ضلع کوئٹہ میں رہنے والوں پشتون، بلوچ، پنجابی، ہزارہ برادری اور اردو اسپیکینگ والوں کے ساتھ سراسر ناانصافی اور زیادتی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کا اصل اعداد وشمار پولیو کمپین اور سکولز انرولمنٹ کے مطابق سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے باقی اضلاع کی مردم شُماری %8 کی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔ ضلع کوئٹہ کی آبادی ہی %8 کی تناسب کیا جائے تاکہ کوئٹہ کی عوام کی حق تلفی نہ ہو۔
آخر میں سینیٹر نصیب اللہ خان بازئی اور ممبر بلوچستان اسمبلی نصراللہ خان زیرے کو ممبر سپورٹ سروسز منسٹری آف فنانس پاکستان سرور گوندل اور ڈاکٹر امجد سندھو ڈائریکٹر جنرل ایڈمن مردم شماری نے یقین دلایا کہ ہم کوئٹہ کے عوام کو مایوس نہیں ہونے دیں گے اور ضلع کوئٹہ میں بسنے والے تمام اقوام کو ان کا حق دینگے۔


