Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

ایمبولینس اسٹاف کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ

ایمبولینس اسٹاف کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ
---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ برطانیہ میں ایمبولینس کے اہلکاروں کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے واقعات غیر معمولی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔

ایسوسی ایشن آف ایمبولینس چیف ایگزیکٹیوز (AACE) کے مطابق 25-2025ء کے دوران پیرا میڈیکس اور دیگر ہنگامی طبی عملے کے خلاف تشدد، جارحیت اور بدسلوکی کے 22,536 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو 24-2023 میں رپورٹ کیے گئے 19,633 واقعات سے 15 فیصد زیادہ ہیں۔

یہ اضافہ ہنگامی 999 کالوں کا جواب دینے والے افراد پر ہر ہفتے 433 حملوں کی خطرناک اوسط ظاہر کرتا ہے، جارحیت کی اصطلاح میں جسمانی حملے، لات مارنا، گھونسا یا تھپڑ مارنا، سر پیٹنا، تھوکنا، جنسی حملہ اور زبانی بدسلوکی شامل ہیں۔

 ایمبولینس سروسز کے سینئر حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ واقعات کی اصل تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات غیر رپورٹ شدہ یا غیر دستاویزی رہتے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ خواتین پیرامیڈیکس اور ایمبولینس ورکرز عوام کی طرف سے اس طرح کی دشمنی سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں۔

AACE کے چیئرمین جیسن کِلنز نے ان اعداد و شمار کو حقیقت میں چونکا دینے والا بیان کیا ہے جو کہ نازک لمحات کے دوران افراد کی مدد کرنے کی کوشش کرنے والے ایمبولینس سے متصل پیشہ ور افراد کے خلاف تشدد میں اضافے کے رجحان کو اجاگر کرتے ہیں۔ 

 انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فرنٹ لائن عملہ اور کال ہینڈلرز دونوں ہی اس ناقابلِ قبول رویے کا تجربہ کرتے ہیں جو ان کی صحت اور تندرستی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

ویلش ایمبولینس سروسز یونیورسٹی کے چیف ایگزیٹکیو کلینز نے برطانیہ کے چاروں وزرائے صحت پر زور دیا ہے کہ وہ ممکنہ مداخلتوں کی تحقیقات کریں جن کا مقصد اس طرح کے تشدد کے ممکنہ مجرموں کو روکنا ہے۔ 

انہوں نے عدلیہ کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ وہ تمام متعلقہ قانون سازی کو یقینی بنائے تاکہ ہنگامی جواب دہندگان کے خلاف ان گھناؤنی کارروائیوں کے مرتکب افراد کے خلاف مناسب سزائیں مستقل طور پر نافذ کی جائیں۔ 

یونیسن کے ایک قومی ایمبولینس آفیسر شرن بنڈیشا نے زور دے کر کہا ہے کہ کسی بھی فرد کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران حملے کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

 انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایمبولینس کے کارکن جو ہنگامی حالات میں دل کے دورے سے لے کر کار کریش تک، جان بچانے کے لیے وقف ہیں ان کے ساتھ ایسا ناروا رویہ بند کیا جائے۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1464553″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com