Friday, October 23, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 439036/tola
Breaking
 Dar Departs for Istanbul to Attend First-Ever R-4+E-3 Foreign Ministers’ Meeting Deputy Commissioners in KP Given Power to Detain Without Charge Four Police Killed in Karak, Including a CTD Superintendent KSE-100 Falls 2,007 Points — Worse Than Emergency Day Pakistani Among Injured as Dammam Airport and Shaybah Hit PM Announces Rs160bn for KP With 70pc to Merged Districts Diesel Now Rs14 Dearer Than Petrol as the Gap Keeps Widening IMF Sees Weak External Position and Holds Growth at 3.5pc Lahore Is the World’s Most Polluted City Again Gul Plaza Had No Fire Alarms or Safety Measures Dar to Attend First R4E3 Foreign Ministers’ Meeting in Istanbul Government to Form JIT in Mir Raza Case Harry Brook Smashes Record-Breaking 202 as England Post 429-4 Against Sri Lanka in Rawalpindi Field Marshal Vows Total Defeat of Terrorists and Their Ideology Earthquake in Tibet Kills Sixteen NCCIA Rescues Karachi Teenager from Dark Web-Linked Network That Ordered Her to Poison Cat, Harm Herself Petrol Price Cut by Rs1.60 Per Litre, High-Speed Diesel Increased by Rs1.64 Under New Daily Pricing Mechanism Magnitude 7 Earthquake Strikes Tibet, Killing at Least 16 and Injuring 32 Lahore Tops Global Ranking of Most Polluted Cities with Hazardous AQI of 344 US Orders Staff Out of Saudi Arabia as Blasts Hit Southern Iran
News

پی ڈی ایم کی طرف سے سرکاری ملازمین کی زبانی کلامی سپورٹ

کل پورا دن وفاقی دارلحکومت میں اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کرتے سرکاری ملازمین پر بدترین تشدد ہوتا رہا۔ احتجاجی مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل برسائے گئے، ڈنڈے اور لاٹھیاں ماری گئی اور ان کو گرفتار بھی کیا گیا ۔

یہ سب کچھ ہوتا رہا اور عوام کے حقوق اور ووٹ کو عزت دینے کی بات کرنے والی پی ڈی ایم صرف سوشل میڈیا پر بیانات جاری کر کے اس کی مذمت کرتی رہی۔

پی ڈی ایم کے کسی بھی لیڈر کو اتنی توفیق نہ ہوئی کے احتجاجی دھرنے میں جا کر مظاہرین سے اظہار یکجہتی کریں۔ اس سے ایک بات واضع ہو گئی کے عوام کا درد کسی کے دل میں نہیں سب اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور عوام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔

اگر اس معاملے کی تشریح ایسے کی جائے تو غلط نہ ہو گا کہ عوام پی ڈی ایم کے احتجاج میں جاتی رہی لیکن پی ڈی ایم نے عوام کے احتجاج کا حصہ بننا مناسب نہیں سمجھا۔

اس سے قبل تحریک انصاف بھی اقتدار میں آنے کے لیے کسی حد تک عوام کو استعمال کرتی رہی اور اقتدار میں آنے کے بعد کسان ہوں، نابینا لوگ ہوں, مزدور ہوں, سرکاری ملازم ہوں یا ہیلتھ ورکرز ہوں ہر کسی پر ڈنڈے برساتی نظر آئی ۔

اس پورے معاملے میں ایک پارلیمینٹیرین ایسا تھا جو اقتدار کی جنگ سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کے حل کے لیے عوام کے ساتھ کھڑا نظر آیا اور وہ محسن داوڑ تھا۔

کل رات بھی سرکاری ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لیے محسن داوڑ دھرنے میں پہنچے اور مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے محسن داوڑ نے ان کو سلام پیش کیا اور کہا کہ آپ نے اپنی ہمت سے آج پوری سرکاری مشینری کو شکست دے دی ہے۔ محسن داوڑ نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ بحیثیت رکن قومی اسمبلی سرکاری ملازمین کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

محسن داوڑ کا یہ عمل تمام حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے لیے ایک مثال ہے۔ بےشک آپ اپنی اقتدار کی جنگ جاری رکھیں لیکن عوامی مسائل پر عوام کے ساتھ کھڑے ہونا بھی سیکھیں ۔

محسن داوڑ کو سرکاری ملازمین کے دھرنے میں شرکت کرنے پر کافی سراہا جا رہا ہے اس حوالے سے معروف سوشل ایکٹیوسٹ اور جرنلسٹ ریحام خان نے بھی محسن داوڑ کو سراہتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہیں محسن داوڑ پر فخر ہے کیونکہ وہ حقیقی عوامی نمائندے کے طور پر سامنے آرہے ہیں

ریحام خان نے محسن داوڑ کے علاوہ ڈھول کی تھاپ پر اپنے منفرد انداز سے احتجاج میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کو بھی سراہا

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com