Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

2018 کے انتخابات میں 80 فیصد ووٹ رات کے اندھیرے میں ڈالے گئے، رپورٹ

2018 کے انتخابات میں 80 فیصد ووٹ رات کے اندھیرے میں ڈالے گئے، رپورٹ

فوٹو: رائٹرز
فوٹو: رائٹرز 

بنگلادیش میں گزشتہ 3 انتخابات میں عوامی لیگ کی منظم دھاندلی کے ثبوت سامنے آگئے ہیں، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں 80 فیصد ووٹ رات کے اندھیرے میں ڈالے گئے۔

بنگلادیش میں 2014، 2018 اور 2024 کے متنازعہ قومی پارلیمانی انتخابات سے متعلق الزامات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں 80 فیصد ووٹ رات کے وقت ڈالے گئے۔

یہ رپورٹ پیر کے روز سابق چیف جسٹس کے مشیر کو پیش کی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ، سابق ہائی کورٹ جج شمیم حسنین نے رپورٹ جمع کروانے کے بعد اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا کے باہر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اہم نکات سے آگاہ کیا۔

عوامی لیگ کی منظم انتخابی حکمتِ عملی

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 2018 کے انتخابات میں بی این پی سمیت اپوزیشن جماعتیں عوامی لیگ کی اس جامع اور منظم حکمتِ عملی کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہیں، جس کا مقصد ہر صورت اقتدار برقرار رکھنا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 80 فیصد حلقوں میں بیلٹ بکس رات کے وقت سیل کیے گئے تاکہ عوامی لیگ کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید یہ کہ انتخابات سے ایک رات قبل انتظامیہ کی غیر منصفانہ کارروائیوں کے باعث بعض علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا۔

2024 کے انتخابات: نمائشی مقابلہ

رپورٹ کے مطابق 2024 کے انتخابات میں بی این پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کیا، جس کے بعد حکمران جماعت نے ڈمی امیدواروں اور پارٹی کے اندرونی نامزد امیدواروں کے ذریعے انتخابات کو بظاہر مسابقتی ظاہر کیا۔

ریاستی اداروں کی شمولیت

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تینوں انتخابات کی منصوبہ بندی اور فیصلے حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر کیے گئے، جبکہ عملدرآمد میں پولیس، سول انتظامیہ اور انٹیلی جنس اداروں کے بعض حصے شامل تھے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص افسران پر مشتمل خصوصی ’الیکشن سیلز‘ بھی قائم کیے گئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2014 سے 2024 کے دوران انتخابی نظام بتدریج الیکشن کمیشن سے انتظامیہ کے کنٹرول میں چلا گیا، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن عملی طور پر غیر مؤثر ہو گیا۔

نگران حکومت کے بعد ایک ہی ماسٹر پلان

جسٹس شمیم حسنین نے کہا کہ تینوں انتخابات اگرچہ مختلف اوقات میں ہوئے، مگر وہ دراصل 2008 کے نگران حکومت کے تحت ہونے والے انتخابات کے بعد تیار کیے گئے ایک ہی ماسٹر پلان کے تحت کروائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس حکمتِ عملی کا مقصد نگران حکومت کے نظام کا خاتمہ اور کسی بھی طریقے سے حکمران جماعت کا اقتدار برقرار رکھنا تھا۔ نگران نظام کے خاتمے کے بعد الیکشن کمیشن میں تقرریاں غیر شفاف انداز میں کی گئیں اور وفادار افراد کو تعینات کیا گیا۔

عدالتی کردار اور سیاسی جبر

رپورٹ میں عدلیہ کے کردار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے، جہاں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے دوران عدالتوں کی جانب سے ضمانتیں مسترد کی جاتی رہیں۔ 

2014 کے انتخابات کو تقریباً غیر شراکتی، جبکہ بعد کے انتخابات کو تشدد، انتخابی مہم پر پابندیوں، دھمکیوں اور ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں سے بھرپور قرار دیا گیا۔

تحقیقات میں رکاوٹیں اور انکشافات

جسٹس حسنین کے مطابق کمیٹی نے تمام رپورٹس کا جائزہ لیا، گواہوں کو طلب کیا اور سماعتیں کیں، اگرچہ اس دوران ملزمان کے فرار اور بعض حکام کی عدم دستیابی جیسی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ 

انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی انٹیلیجنس (این ایس آئی) سمیت بعض اداروں کے تعاون سے الیکشن کمیشن کے اندر وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے شواہد سامنے آئے۔

مستقبل کے لیے سفارشات

یہ پانچ رکنی کمیٹی عبوری حکومت نے طلبہ اور عوامی احتجاج کے نتیجے میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد قائم کی تھی، جسے آئندہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لیے سفارشات تیار کرنے کا بھی ٹاسک دیا گیا ہے۔

کمیٹی کے دیگر ارکان میں سابق ایڈیشنل سیکریٹری شمیم المامون، ڈھاکہ یونیورسٹی کے قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر قاضی محفوظ الحق، وکیل تجریان اکرم حسین اور انتخابی ماہر عبدالعلیم شامل ہیں۔

رپورٹ نے ایک بار پھر گزشتہ ایک دہائی کے دوران بنگلادیش کے انتخابی عمل کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1546134″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com