اسلام آباد: سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے ایڈووکیٹ سمیع اللہ خان کاکڑ کے بہیمانہ اور پراسرار قتل کا معاملہ سینیٹ میں اٹھا دیا۔
تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد میں قتل ہونے والے ایڈوکیٹ سمیع اللہ کاکڑ کے پراسرار قتل پر سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے سینٹ اجلاس کے دوران اپنے تحفظات ہاوس کے سامنے رکھیں۔
سنیٹر بازئی نے کہا کہ 14 دن گزرنے کے باوجود تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جس کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے وزارت داخلہ کو ہدایت جاری کی کہ اس معاملے پر رپورٹ 24 گھنٹوں کے اندر ہاؤس میں پیش کی جائے۔
اس سے قبل، ایڈووکیٹ سمیع اللہ خان کاکڑ کے بہیمانہ پراسرار قتل کے معاملہ پر اسلام آباد پولیس نے 4 رکنی خصوصی تفتیشی ٹیم قائم کی تھی۔

ایڈووکیٹ سمیع اللہ خان کی لاش اسلام آباد کے جی نائن ون میں فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔

پولیس نے ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ ایڈووکیٹ سمیع اللہ کاکڑ گزشتہ گچھ دنوں سے کسی سے رابطے میں نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سمیع اللہ کو زہریلی چیز نے کاٹا ہے، سمیع اللہ نےاس بات کا ذکر اپنے گھر والوں سے بھی کیا تھا۔ایڈووکیٹ سمیع اللہ کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے تھا۔

دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے اپنے جاری کردہ بیان میں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن بار کے معزز رکن سمیع اللہ خان کاکڑ ایڈووکیٹ کے بہیمانہ پراسرار قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل صاف و شفاف تحقیقات کی جائیں اگر طبعی موت ہوئی ہے بھی تو ضروری ہے کہ حقائق عوام بالخصوص وکلاء کے سامنے لائے جائیں۔


