پاکستان اور افغانستان کے وزارت تجارت کے حکام 15 جولائی کو سرحدی گزرگاہوں میں مال بردار گاڑیوں کی امد ورفت میں درپیش مشکلات کے حل پرگفتگو کرینگے۔
‘دی پاکستان ڈیلی’ کو موصول ہونے والے پاکستانی وزات تجارت کے ایک اعلان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے اہلکاروں کی ‘ان لائن’ اجلاس بلانے کی تصدیق کی گئ ہے۔

اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے کہ دوطرفہ مال بردار گاڑیوں کی ڈرائیوروں کو عارضی سفری اسناد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سب سے اہم ‘طورخم’ سرحدی گزرگاہ کے دونوں جانب تجاری گاڑیان روک لی گئی تھی۔ عارضی دستاویزات کا نظام اس سال مارچ میں کابل میں ہونے والے مذاکرات میں ہوا تھا لیکن بدقسنتی سے فیصلوں کے باوجود اکثر فیصلوں کا نفاذ سست روی کا شکار رہا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس نظام کے متعارف ہونے سے ڈرائیورں اور کلینرز کو بغیر پاسپورٹ او ویزے کے انے جانے کی اجازت ہوگی۔
اس سال یکم جون سے نفاذ کے بعد یہ نظام ایک سال تک جاری رہے گا۔ ویزوں کے حصول میں مشکلات کی پیش نظر ‘داخلہ کے لئے عارضی سفری دستاویزات’ یا ٹی اے ڈی کا نطام اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کو یہ یقینی بنانا پڑے گا کہ جن ڈرائیوروں کو ابھی تک یہ دستاویزات جاری نہیں کئے گئے ان کو جلد از جلد جاری کئے جائیں تاکہ انے جانے میں رکاوٹیں نہ ہوں۔ اس وقت افغانستان میں سبزیوں اور میووں کا موسم ہے اور ان کے اشیاء وقت پت درامد ہوں اس طرح پاکستان میں آم کا سیزن چل رہا ہے اور افغانستان کو برامد کیا جا رہا ہے۔ ویسے تو آم کافی ممالک کو جارہا ہے لیکن قریب ہونے کی وجہ افغانستان آم کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اس راستے سے دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی جارہا ہے۔
دونوں ممالک کے پاس ڈرائیوروں کو عارضی دستاویزات جاری کرنے کے عمل میں سست روی کا کوئی جواز نہیں بلکہ متعلقہ افسران کی نااہلی ہے۔ بعض اوقات تکنیکی مسائل اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ شاید یہ رویہ سیاسی مسایل کی وجہ سے ہے۔ اس تاثر کو دور کرنا پڑے گا۔

پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کی مشترکہ صنعت و تجارت کے عہدیدار بھی یہی مطالبہ کرتے ارہے ہیں۔ ہپ مطالبہ بلکل جائز بھی ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کا کافی چیزوں کے لئے ایک دوسرے پر انحصار ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے اچھی مارکیٹ بھی ہیں۔
ٹرانزٹ کے لئے بھی دونوں کی اہمیت دنیا کے اکثر ممالک سے زیادہ ہے۔
اس ہفتے افغان وزارت صنعت وتجارت نے اعلان کیا کہ مشرقی صوبے ‘کنڑ’ سے پاکستان کے راستے 80 ہزار ٹن پیاز بھارت برامد کیا گیا ہے۔ پاکستان کا زمینی راستہ افغانستان کے لئے اور ان کے نجی شعبی کے لئے بہت اہم ہے اور اسی راستے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ چین بھی برامدات کی جاسکتی ہیں۔ افغان حکام اس سے اگاہ ہی ہونگے کہ اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت تقریبا معطل ہے لیکن پاکستان افغانستان اور ان کے تاجروں کو بھارت کے لئے راستہ دے رہے ہیں۔ اسی طرح افغانستان کا زمینی راستہ مرکزی ایشیاء تک برامدات کے لئے پاکستان کے لئے اہم ہے۔
افغان وزارت تجارت کے ترجمان عبد السلام جواد نے ‘دی پاکستان ڈیلی’ کو بتایا کہ بھارت کے ساتھ افغانستان کی تجارت کراچی بندرگاہ سے ہوتا ہے اور زمینی راستے کے لئے بھی پاکستان کے ساتھ مزاکرات جاری ہیں۔
عارضی سفری دستایزات پر ٹرکوں کا پہلا قافلہ یکم جون کو کرم قبایلی ضلع میں خرلاچی سرحد سے پاکستان داخل ہوا تھا۔
پاکستان، افغانستان مشترکہ صنعت و تجارت کے خیبر پختونخوا کے لئے رابطہ کار ضیاء الحق سرحدی نے ‘دی ڈیلی پاکستان’ کو بتایا کہ عارضی دستاویزات جاری کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل سست روی کا شکار ہے جس سے دوطرفہ تجارت اور تاجروں کا نقصان ہوتا ہے۔
سفری اسناد جاری کرنے کی ذمہ داری پشاور میں افغان قونصل خانے اور کابل میں پاکستانی سفارتخانے ہے۔ افغان کونسل جنرل حافظ محب اللہ نے ‘دی پاکستان ڈیلی’ کو بتایا ہے کہ قونصل خانے میں دستاویزات جاری کرنے کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔
کابل سے وزارت ٹرانسپورٹ کا ایک اہلکار اس کام کے لئے پشاور میں تعینات کیا گیا ہے۔ کابل میں افغانستان کی وزارت ٹرانسپورٹ اور پاکستانی سفارتخانے کی سست روی کی وجہ سے سینکڑوں مال بردار گاڑیاں طورخم کے دونوں سائڈز پر روک لی گئی تھی۔ پاکستانی اور افغان حکام کی اسلام اباد میں ملاقاتوں کے بعد پاکستان نے طورخم کے علاوہ دیگر سرحدی گزرگاہوں پر رکی گاڑیوں کو جولائی 15 تک انے جانے کی اجازت دے دی ہے لیکن ساتھ کہا گیا ہے کہ اس کے بعد بغیر دستاویزات کے گاڑویوں کا انا جانا بند ہوگا۔
اب 15 جولائی کو پاکستان اور افغانسان کے وزارت تجارت کے عہدیداروں کے اجلاس میں عارضی دستاویزات کے حصول میں ڈرائیورں کے مشکلات کے حل پر غور کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے افسران کے اجلاس ہوتے ہیں اور فیصلے بھی کئے جاتے ہیں لیکن عمل درامد اکثر ایک مسلہ ہی ہوتا ہے۔
یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ تجارت کو سیاست سے دور رکھنا بھی دونوں ممالک اور لوگوں کے مفاد میں ہیں۔ دونوں ممالک کے تاجروں کا موقف ہے کہ سیاسی اور سکیورٹی معاملات پر کشیدگی نے تجارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ دوطرفہ تجارت کو تین ارب ڈالر کے اعلانات کئی مرتبہ کئے ہیں لیکن اب تاجروں کا کہنا ہے کہ سالانہ دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔
یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ افغان تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے راستے افغان ٹرانزیٹ تجارت بھی متاثر ہوئی ہے اور افغان تاجر دیگر بندرگاہوں کا رخ کررہے ہیں۔ اس پر بھی سوچنا پڑے کا کہ یکطرفہ اقدامات سے ٹرانزٹ تجارت کو کتنا نقصان ہوا ہے اور ٹرانزٹ تجارت کو نقصان کا دوطرفہ تجارت پر اس کا کتنا اثر ہوا ہے؟


