Wednesday, September 2, 2026 · Petrol Rs 342.79 · USD/PKR 277.50 · Gold Rs 466136/tola
Breaking
Militant Attacks Increase but Fatalities Decline in August Amid Sustained CT Pressure: Think Tank Pakistan to Provide First Secretary General of Makkah Defence Alliance Shehbaz Sharif Tells SCO Summit Water “Must Never Be Weaponised” Xi, Putin and Modi Join SCO Plus Summit in Bishkek as Pakistan Takes Chair Shehbaz Sharif Takes SCO Chair for 2026-27; Islamabad to Host Next Summit Shehbaz Sharif Proposes SCO Framework for Sovereign AI Infrastructure Cancelled in 2024 Gold Rate in Pakistan Falls Rs1,800 a Tola as Petrol Rises 77 Paise Pakistan Send Home Seven Players and the Coach; Mickey Arthur Calls It “Ridiculous” US Firm to Take Over Venezuela Oilfields Run by Chinese, Russian Companies Maryam Nawaz Orders Dedicated Motorcycle Lanes on Major Lahore Roads Brent Crude Holds Above $91 as Hormuz Supply Risk Returns India Firecracker Blast Kills 11, Eight of Them Children; Licence Was Cancelled in 2024 Nepal-China Flood Death Toll Passes 1,000 With 4,462 Still Missing Rawalpindi Schools Closed as 201mm Rain Breaks a 16-Year Record Ishaq Dar Meets Araghchi at SCO Summit, Presses Islamabad MoU Gold Rate in Pakistan Today Holds at Rs467,936 a Tola as Fuel Prices Stay Put Seven Working Days Pakistan Food Inflation Splits: Flour Up 45pc, Chicken Down 24pc Pakistan, Saudi Arabia Set $3bn Farm Export Target for Two Years
Blog

مظلوم کو سزا آخر کب تک؟

رواں سال ستمبر میں ایک خبر سُنی تو ایسی کیفیت تھی جس کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔ معاف کیجیے گا لیکن وہ خبر سننے کے بعد لگا کہ شاید ہم جنگل میں رہتے ہیں اور یہاں قانون بھی جنگل کا ہی چلتا ہے۔ پہلے سوچا کچھ لکھوں پھر کہا کہیں ناچیز سے نادنستہ طور پر توہین عدالت نہ ہو جائے۔

خبر یہ تھی کہ راولپنڈی کی دسٹرکٹ کچہری نے کئی ماہ تک ریپ کرنے کے بعد متاثرہ لڑکی سے شادی پر ملزم کو رہا کر دیا۔

خیر کچھ دن تک سوچتا رہا کہ یہ ٹھیک تو نہیں ہے لیکن قانون کے مطابق رہائی ہوئی کیا کر سکتے ہیں۔

آج پھر ایک خبر پڑھی کہ پشاور ہائی کورٹ کے منگورہ بینچ نے قوت سماعت اور گویائی سے محروم 20 سالہ لڑکی سے ریپ کرنے والے کو اس لڑکی سے شادی کرنے پر معاف کر دیا۔ یہ خبر پڑھی تو دل خون کے آنسو رویا، اس بار ضبط ٹوٹ گیا اور سوچا کہ قانون کے مطابق یہ ٹھیک ہو تب بھی میرا ضمیر اس کو نہیں مانتا اور مجھے اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔

اس بارے میں لکھنے سے پہلے کچھ لوگوں سے بات ہوئی تو ان میں سے زیادہ تر کا ماننا تھا کہ لڑکی کی زندگی تو ویسے تباہ ہو گئی تھی ، چلو اور کچھ نہیں تو مجرم اس سے شادی کر کے پوری زندگی اس کا نان نفقہ تو برداشت کرے گا اور یہی اس مجرم کی سزا ہے۔

میں تب سے دل ہی دل میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ کیسا قانون ہے جس میں سزا مجرم کو نہیں سزا تو مظلوم کو مل رہی ہے۔ وہ شخص جس نے اس خاتون کی عزت پر ڈاکہ ڈالا اس کے ساتھ پوری زندگی گزارنی پڑے گی۔

ایک دوست نے کہا کہ بات تو درست نہیں ہے لیکن یہ فیصلہ باہمی رضامندی سے ہوتا ہے تو اس پر کچھ کیا نہیں جاسکتا۔ تب میرے ذہن میں خیال آیا کہ جب ایک بڑے شہر میں رہنے والے “پڑھے لکھے” لوگ اس فیصلے کو متاثرہ خاتون کے حق میں ٹھیک سمجھ رہے ہیں تو کسی دور دراز کے گاوں کی لڑکی پر کتنا دباؤ ہوتا ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے کو اپنا جیون ساتھی بنا لے۔

میرا سوال اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں سے ہے کہ آپ اپنی آسانی کے لیے آئے روز کوئی نہ کوئی ترمیم لے آتے ہیں تو کیا اس معاملے پر کوئی ترمیم یا قانون سازی نہیں ہو سکتی۔

کب تک ہم مجرم کی بجائے مظلوم کو سزا دیتے رہیں گے ۔ کیا ان فیصلوں سے یہ پیغام نہیں دیا جا رہا کہ اگر کسی سے شادی کرنی ہو تو پہلے ریپ کرو پھر شادی کرلو۔ شادی بھی ہو جائے گی کیونکہ معاشرہ لڑکی پر یہ دباؤ ڈالے گا کہ اب اسی شخص کے ساتھ رہنا اس کے لیے بہترین فیصلہ ہے اور معافی بھی مل جائے گی۔

نہایت دکھی دل کے ساتھ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ یہاں ہر چیز بکنے کے لیے دستیاب ہے شرط یہ ہے کہ آپ کے پاس خریدنے کے لیے دولت ہو اور اگر آپ کے پاس دولت ہے تو پھر ریپ چھوڑیں قتل کی بھی معافی مل جاتی ہے اور اگر دولت نہیں ہے تو آپ بے گناہ بھی ساری زندگی جیل میں گزار سکتے ہیں۔

ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنا پڑے گا کہ آج بھی ہمارا شمار ان چند ممالک کی فہرست میں کیوں ہوتا ہے جو ریپ کے مجرم کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ اسی خاتون سے شادی کر لے جس کو اس نے اپنی حوس اور درندگی کا نشانہ بنایا اور پھر اس بنا پر اسے معافی بھی مل جاتی ہے۔

کیوں ؟

AdvertisementSCO Summit 2026 — Government of Pakistan
Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com