پہلے پاکستانی معیشت اور بجٹ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ نمبرز کا ہیر پھیر ہے جو کہ عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا لیکن اب لگتا ہے کہ پاکستان کی سیاست بھی الفاظ کا وہ ہیر پھیر بن چکی ہے جس کی کوئی سمجھ نہیں آتی۔
بغیر کوئی لمبی تمہید باندھے بات کا آغاز یہاں سے کرتے ہیں کہ ہم نے سُنا ہے پاکستان جب سے بنا ہے تو اس کے حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے بہت سے غلطیاں اور غلط فیصلے ہوئے ہیں اور بعد میں ان غلطیوں کو تسلیم بھی کیا گیا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ غلطیاں تسلیم کرنے کے باوجود بھی ہم نے آج تک ترقی کیوں نہیں کی؟
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ غلطیاں تسلیم تو کی ہیں لیکن ان کو سُدھارا نہیں اور آج پھر ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہم یہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ پولیٹیکل انجئنرنگ ہوئی، کسی کو اقتدار میں لایا گیا اور کسی کو اقتدار سے نکلوایا گیا۔ عدالت سے فیصلے دلوا کر کسی کو نااہل کروایا گیا اور کسی کو نااہل ہونے سے بچایا گیا لیکن ابھی بھی ہم اپنی غلطیوں کو سُدھارنے کی طرف نہیں جارہے۔
اگر کسی بھی غلطی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہو تو وہ صرف غلطی تسلیم کرنے سے نہیں ہوتا۔ غلطی تسلیم کرنا تو پہلی سیڑھی ہوتی ہے ، اس کے بعد اس غلطی یا غلط فیصلے کو درست کیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ وہ غلطی نہ دہرانے کا عہد کیا جاتا ہے اور اس طرح آپ کسی حد تک اس غلطی کے نقصان کا ازالہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
پاکستان کے مقتدر حلقے اور ادارے یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے کہاں کہاں، کیا کیا غلطی کی ۔ کس کو غلط نااہل کروایا اور کس کو نااہلی سے بچایا۔ تو اب پاکستان کی بہتری اور بقا کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور جس جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ان کو فوری ریلیف دیا جائے اور جن کو چھوٹ ملی رہی ان کو گرفت میں لایا جائے۔
یہی وہ واحد طریقہ ہے جس پر عمل کر کے ہم بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ ورنہ ہم کچھ عرصے بعد اس سے برے حالات میں ہوں گے اور مزید غلطیاں تسلیم کر رہے ہوں گے




