پہلے 3 مارچ کو سینٹ کے الیکشن ہوئے اور حال ہی میں 12 مارچ کو سینٹ چیئرمین کا الیکشن ہوا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سینٹ الیکشن میں نہ حکومت جیتی اور نہ ہی اپوزیشن ۔ بظاہر تو حکومت اور اپوزیشن کا کانٹے دار مقابلہ تھا لیکن اس میں جیت ایک تیسرے فریق کی ہو گئی۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو جناب یہ ایسا ہوا کہ پہلے سینٹ الیکشن ہوئے جس میں اسلام آباد کی نشست پر عددی اکثریت والے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ ( جس کی مہم خود وزیراعظم عمران خان نے چلائی) کو ہرا کر حکومت کو یہ میسج دیا گیا کہ یہ عددی اکثریت, یہ اقتدار سب کچھ ہماری وجہ سے ہے اور ہمارے بغیر آپ کی اوقات ایک سینٹ کی سیٹ نکالنے کی بھی نہیں ہے۔
خیر سینٹ الیکشن ہو گئے اور اپوزیشن کو سینٹ میں عددی اکثریت مل گئی ۔ اپوزیشن نے کہا کہ ہمارے پاس اکثریت آگئی ہے اب ہمیں اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین لانے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تو ایسے میں اسی تیسرے فریق نے اپوزیشن کو بھی وہی پیغام دینے کا پلان بنایا جو وہ حکومت کو دے چکے تھے۔
مارچ کو سینٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوا ۔ یہاں ایک بار پھر عددی اکثریت رکھنے والی اپوزیشن کو ناکام کر کے ان کو بھی یہ پیغام دیا گیا کہ ہمارے بغیر آپ کی بھی یہی اوقات ہے ۔
اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی طاقتوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ وہ سیاسی ضرور ہیں لیکن طاقت کوئی اور ہے۔
یہی وہ طاقت ہے جو 73 سال سے پاکستان کے سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے اور ابھی بھی معیشت ہو یا سیاست, فارن پالیسی ہو یا دفاع سب کچھ ان ہی کی مرضی سے ہوتا ہے۔
سینٹ کے الیکشن ایک جمہوری عمل تھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس جمہوری عمل کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان میں جمہوریت کتنی کمزور ہے ۔ یہاں اکثریت کی رائے سے زیادہ, عسکریت کی رائے اہم ہوتی ہے۔
ایک طرف یہ جمہوریت کی ناکامی تو ہے ہی لیکن دوسری جانب یہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر کس طرح کے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لا رہے ہیں جو حقیقت میں نہ جمہوری ہیں اور نہ ہی ان کی وفاداریاں پارٹی کے ساتھ ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیتے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ سیاست کو جلد از جلد عسکریت پسندوں کے اس ٹولے سے پاک کریں۔




