BlogFeaturedNewsPakistan

عثمان بزدار کی حکومت نے تمام سیاسی پنڈتوں کو کیسے شکست دی۔

پنجاب میں بزدار حکومت خاموشی کے ساتھ اپنے احداف پورے کرتے ہوے بہت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔تین سال کے عرصے میں پنجاب حکومت بہت ذیادہ اکثریت نہ جانے کے باوجود مستحکم رہی ہے ۔ تمام سیاسی پنڈتوں کی پیشنگوئیاں دھری کی دھری رہ گئی ہیں اور عثمان بزدار ایک مضبوط وزیراعلی کے طور پے سامنے آے ہیں ۔ بزدار حکومت نے انفرادسٹرکچر صحت زراعت ماحولیات اور تعلیم میں بہت ذیادہ انوسٹمنٹ کی ہے ۔پنجاب ایجوکیشن کنونشن میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدارنے اپنی تقریر میں بتایا کہ صرف 6ماہ کے اندر پنجاب حکومت 10لاکھ بچوں کو اسکول لے آئی۔ قلیل مدت میں 10لاکھ بچوں کا داخلہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم ترین کام جو اس حکومت کے سر جاتا ہے وہ ملتان میں پہلے ٹرانس جینڈر اسکول کا قیام ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے جو انکلوسیو سوسائٹیز کے قیام کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

ماضی کی حکومت جو اپنے کام کی بے جا تشہیر میں مصروف رہتی تھی اس نے 5برسوں میں 1330 سکول اپ گریڈ کئے اور اس حکومت میں صرف تین سال میں ڈیڑھ ہزار سے زائد اسکول اپ گریڈ ہوچکے ہیں۔ رواں مالی سال میں مزید 7ہزار اسکولوں کی اپ گریڈیشن ہوگی اور مجموعی طور پر 27ہزار اسکول اپ گریڈ کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ انصاف اکیڈمی کا قیام اور تعلیم سے متعلقہ دیگر سہولیات کا ای گورننس پر منتقل ہونا جس سے پرموشن اور تبادلوں میں سفارش اور کرپشن کا خاتمہ ہوا، ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے ند تریںن شکار ممالک نیں شامل ہے ۔ محولیاتی تبدیلیوں سے بچنا پاکستان تحریک انصاف کی نمبر ایک ترجیح ھے ۔ پنجاب حکومت اس سمت میں بھر کام کر رھی ہے ۔ جس کی مثال رکھ جھوک میں 24 ہزار کنال پر جنگل کے تحفظ و توسیع کا شاندار منصوبہ ہے جہاں ایک کروڑ درخت لگائے جارہے ہیں۔ یہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا منصوبہ ہے جو آب و ہوا کو ماحول

دوست بنانے میں خصوصی کردار ادا کرے گا۔ اسی طرح میواکیُ اربن فاریسٹ کا منصوبہ بھی ھے
صحت کے شعبے میں ریسکیو ائیر ایمبولینس کا آغازبہت بڑی بات ہے۔ پنجاب کے دور دراز علاقوں سے ایمرجنسی کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے یہ ایسا منصوبہ ہے جو اب تک عمومی طور پر دنیا کے امیر ترین اور ترقی یافتہ ممالک میں ہی میسر ہے۔ اس کے علاوہ جناح اسپتال اور سروسز اسپتال میں جدید طرز کے ایمرجنسی ٹاورز بنانے کی بھی اصولی منظوری دی گئی ہے اور سردار

صاحب نے پنجاب کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتالوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
‎وزیراعلی صاحب ساہیوال اور ڈی جی خان ڈویژنز کے عوام کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی یہ سہولت مہیا کرچکے ہیں اور دسمبر تک پنجاب کے 11 کروڑ عوام کو مفت علاج کی سہولیات میسر ہونگی۔ اس پروگرام کے تحت ہر خاندان کو 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کی کوریج مل سکے گی۔ ایک عام آدمی کے سب سے بڑی پریشانی اچانک کی بیماری یا حادثہ ہوتا ہے ہیلتھ انشورنس سے برے وقت میں پیسے کی پریشانی نھی ھوگی اور لواحقین کی تمام تر توجع اپنے مریض کی تیمارداری پر ھوگی ایسے پروگرام چلتے رہنے چاہئیں۔ اور انُپے سیاست نھی کرنی چاہئے ۔

‎۔عثمان بزدارنے زرعی شعبے پر ٹیکس میں اضافے کے حوالے سے تجویز کو مسترد کیا۔ اس کے علاوہ ترقیاتی بجٹ میں شعبۂ زراعت اور فوڈ سیکورٹی کیلئے 32 ارب روپے مختص کئے۔ زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبے کے بجٹ کیلئے نئے مالی سال میں 300 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور محکمہ آبپاشی کیلئے 31 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ان اقدامات سے فصلیں سیراب ہونے کے ساتھ ساتھ کسان کی زندگی میں معاشی استحکام کی امید کی جاسکتی ہے۔اگر شعبہ تعلیم کو دیکھا جائے تو ترقیاتی بجٹ میں 23فیصد اضافے کے ساتھ بنیادی تعلیم کیلئے 35 ارب روپے جبکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے 300 فیصد اضافے کے ساتھ 15 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انشااللہ بہت جلد اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹیز کا جال ہر ضلع میں پھیلائے جانے کا خواب ضرور پورا ہوگا۔ ڈیجیٹل گورننس کیلئے 5 ارب، سیاحت کیلئے سوا ارب اور مقامی سطح پر ترقیاتی پروگراموں کیلئے 100ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ترقیاتی بجٹ میں انفراسٹرکچر کیلئے 66 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ عوام کا طرز زندگی اور ماحول بہتر بنایا جاسکے۔


‎ان سب منصوبوں کے علاوہ سب سے اہم حصہ وہ ہے جو جنوبی پنجاب کو دیا گیا۔ عثمان بزدارکی حکومت اس صوبے کی واحد حکومت ہے جس نے جنوبی پنجاب کی بات کی اور اپنی بات کو پورا کیا اور جنوب کے عوام کی لاج رکھی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے بجٹ کی تقریر کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت جب کہ میں تقریر کر رہا ہوں،جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاچکا ہے۔ اور اب ایک سال بعد جبکہ جنوبی پنجاب میں انتظامی بہتری بھی نظر آرہی ہے، تمام دفاتر فعال ھو چکے ہیں اور افسران کے پاس پورے اختیار ہیں اس موقع پر ترقیاتی بجٹ کا 35 فیصد حصہ جنوب کیلئے مختص کرنا ایک خوش آئند عمل ہے۔ اس سے پسماندگی کی مثال جنوبی پنجاب کو ترقی کا محور بننے میں شاید زیادہ دیر نہ لگے کیونکہ یہ پنجاب کا وہ حصہ ہے جو دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا، یہاں پر ہونے والا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا منصوبہ اپنی پہچان آپ بن رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ جب یہ حکومت پنجاب میں اپنے پانچ سال پورے کرے تو جنوبی پنجاب دیگر صوبوں کیلئے تیز تر ترقی کا ماڈل ثابت ہو۔

‎وزیراعل پنجاب نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے جو سہولیات کا انتظام کر رکھا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں عام طور پر پاکستان میں توقعات تو بہت رکھی جاتی ہیں لیکن ان کے اپنے مسائل کیا ہوتے ہیں اس بارے میں کسی کو کوی دلچسپی نھی ہوتی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ فارن کرنسی کما رہے ہیں اور ان کے کوئی مسائل نہیں۔ اس کے برعکس یہ اوور سیز پاکستانی جس جہدِ مسلسل کا حصہ ہیں وہ یہی جانتے ہیں۔ نہ باہر کے ملکوں میں پیسے کمانا آسان ہے اور نہ ہی اپنوں سے دور رہنا آسان ہے ۔ ان بیچاروں کو تو سننے والا ہی کوئی نہ تھا۔ لوگوں کی زمینوں پر، گھروں پر قبضے ہوتے رہے۔مہنگے ٹکٹ لے کر یہ لوگ پاکستان آتے تو سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے، کچھ دن لوگوں کے پیچھے بھاگنے کے بعد مسئلہ حل ہوئے بغیر واپس چلے جاتے، اسی طرح نظام چلتا رہتا اور مظلوم پستا رہتا۔ بزدار صاحب نے ان کے مسائل کے حل کیلئے جامع حکمت عملی بنائی اور اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا۔اورسیز کمیشن کو فعال کیا ھے اور فوکل پرسن فار اورسیز کی تعیناتی اسی سمت میں اہم اقدام ہیں ، اورسیز پاکستانیوں کے لیئے 24/7ہیلپ لائن اور ایپ کا افتتاح کیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس بیرون ملک کئی مقیم پاکستانیوں کی زمینیں واگزار کروا چکی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی کاوش ہے، اس سلسلے کو بھی چلتے رہنا چاہئے۔ اس کے علاوہ عثمان بزدار نے لاہور کی ماس ٹرانسٹ کو جدید بسیں مہیا کی ہیں۔

کل 64 بسیں مہیا کی گئی ہیں، ہر بس 18 میٹر لمبی ہے جس کے باعث اب لاہور میں سوا لاکھ مسافروں کو روزانہ کی بنیاد پر آرام دہ سفری سہولیات مل سکیں گی۔عثمان بزدار نے اس منصوبے کے ذریعے سرکاری خزانے کیلئے 2 ارب روپے کی بچت ممکن بنائی۔ جدید سفری سہولیات کو چھوٹے اور پسماندہ اضلاع میں بھی مہیا کرنے کی حکمت عملی تشکیل دی۔ گزشتہ حکومت کے کسی منصوبے کو بند نہیں کیا گیا بلکہ بہتر بنایا گیاہے،تاکہ کوئی بھی منصوبہ چاہے وہ نمائشی ہو یا فلاحی، اس کو عوام کیلئے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنایا جاسکے۔ سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے، جو عثمان بزداراپنے طریقہ کار سے مسلسل سمجھا رہے ہیں۔

Chaudhry Aftab

Chaudhry Aftab is the Focal Person to Chief Minister Punjab for Overseas Pakistanis.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button