FeaturedNewsPakistan

یوسف رضا گیلانی نے پیکا آرڈینیسن عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا

لاہور: سینٹ میں اپوزیشن لیڈر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوامی مارچ عوام کی وجہ سےکر رہے ہیں کیونکہ لوگوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔آئے دن بجلی پیٹرول کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے، گیس ملتی نہیں۔

وعدے کیے گئے تھے یوتھ کو ایک کروڈ نوکری ملے گے پچاس لاکھ گھر ملیں گے،میں سمجھتا ہوں نوکریاں چھین لیں گئیں ہیں، لوگ بے گھر ہوئے ہیں، وہ ماڈل ٹاؤن میں پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری حسن مرتضی،سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ،قاسم گیلانی, علی بدر بیرسٹر عامر، نیلم جبار اورفیصل میر کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پی ڈی ایم بنائی تو تین چار پوائنٹس ہمارے تھے. آج بھی اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر باہر منظم ہے. عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے،پی پی کے مشورے پر تہیہ کیا استعفی نہیں دیں گے اور ضمنی الیکشن بھی لڑیں گے. سب نے دیکھا جتنے بھی الیکشن ہوئے ہم جیتے ،پی پی سینٹرل ایگزیگٹو کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ اسمبلی سے باہر نہ نکلیں۔انہوں نے کہا کہ مبارکباد پیش کرتا ہوں ساری اپوزیشن عدم اعتماد کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر اکٹھی ہوچکی ہے، یہ جمہوریت کی فتح ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیکا آرڈیننس ایک خوف ہے. حکومت خوف کی وجہ سے میڈیا کو دبانا چاہتی ہے۔تاکہ انکے بارے میں کسی قسم کی بات نہ کی جائے،پوچھنا چاہتا ہوں جب خان صاحب کنٹینر پر تھے اس وقت میڈیا انکو سپورٹ نہں کر رہا تھا،ہم پیکا آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں اور اسکے خلاف کورٹ میں جائیں گے،یہ عوام سے ڈرتے ہیں اور پارلیمنٹ پر یقین نہیں رکھتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوامی مارچ مہنگائی اور بیروز گاری کیخلاف ہے۔مہنگائی سےلوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے،اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر منظم ہے،اپوزیشن عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔سی ٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی طریقے سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔حکمران ڈریکونین قوانین بنانا چاہتے ہیں۔پیکا قانون کے ذریعے سول سوسائیٹی،مخالفین اور میڈیا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،قومی اسمبلی اور سینٹ میں آرڈیننس لانا پارلیمنٹ کو نہ ماننے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ کا بہانہ بنا کر سٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس نہیں بلائے جا رہے،عوامی مارچ 27فروری کو کراچی سے  شروع ہو گا۔کراچی سے بدین جہاں رات کو رکے گا،پھر 28کی رات حیدر آباد جا کے رکے گا۔دو مارچ کی رات رحیم یار خان پہنچے گا تین مارچ کو ملتان میں استقبال ہو گا،4مارچ کو چیچہ وطنی خطاب اور ساہیوال۔میں قیام،6کو لاہور میں جلسہ اور قیام،8مارچ کی صبح مارچ راولپنڈی سےاسلام آباد روانہ ہو گا۔لیڈر لیس عوامی  مارچ نہیں چاہتے تھے۔

توقع ہے کہ پارلیمنٹرینز لانگ مارچ اور عدم اعتماد میں ہمارا ساتھ دینگے۔حکومت اس وقت  ہل چکی ہے  اس لیے یہ روز ترامیم کر رہے ہیں۔ہم کوئی غیر جمہوری کام نہیں کر رہے عدم اعتماد جمہوری طریقہ ہے۔اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے عدم اعتماد کا لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی سے بھی مل رہے ہیں۔تین سال میں بھی حالات ٹھیک نہیں ہوئے تو آپ حکومت کرنیکے قابل نہیں۔جمہوری اقدار میں کبھی بھی خفیہ بل نہیں لائے جاتے۔بلاول بھٹو زرداری اور جہانگیر ترین ملاقات کا مجھے پتہ نہیں۔ میری نہیں ہوئی،اپوزیشن جو بھی اقدام کریگی جمہوری و آئینی ہو گا۔پارلیمنٹ بیکار ہو چکی یے۔آرڈینس پر آرڈیننس لائے جا رہے ہیں،صدر زرداری اور مولانا ملاقات کے بعد بہت ساری چیزیں واضح ہو جائینگی۔

Qamar Zaman Bhatti

Special Correspondent The Pakistan Daily. President Punjab Union of Journalists (PUJ).

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button