Monday, October 26, 2026 · Petrol Rs 377.71 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 424536/tola
Breaking
Asif Khaliq drives blue-eyed Chaiwala Arshad Khan’s London success Munir and Naqvi Join Makkah Pact Talks in Tehran Iran Says the Border Is Open as Pakistan Ships LPG by Sea Six Militants and Two Soldiers Killed in DI Khan Imran Khan’s Sisters Held for Another 30 Days Rights Commission Calls for the KP Emergency to End Makkah Pact Officials Head to Tehran for Security Talks Riyadh Airport Partly Reopens Two Weeks After Attack Indian Duty-Free Access Threatens Pakistan’s Textile Edge Peshawar Begins Polio Drive for 1.11 Million Children KSE-100 Loses 4,045 Points Over the Week Task Force Asks Industry for Export Proposals PTI Weighs Talks Against Protest Over KP Seven of One Family Killed in Murree Road Accident Mir Raza’s Father Asks for a JIT Member to Be Replaced Pakistan Rejects a $490m Loan as Too Expensive Minister Seeks Loan Rescheduling as Rates Bite at 25pc 31,000 Consumers Denied the Petrol Subsidy Portal Glitch Blocks Returning Pakistanis From Filing LPG Cargoes Down to Two as Senate Presses on Winter Fuel
اردو

جو بائیڈن نے دوبارہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ لاپرواہی اور اَنا کے سبب لیا: کمالا ہیرس کا انکشاف

جو بائیڈن نے دوبارہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ لاپرواہی اور اَنا کے سبب لیا: کمالا ہیرس کا انکشاف
---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

امریکی سابق نائب صدر کمالا ہیرس نے اپنی نئی کتاب ’107 ڈیز‘ میں اعتراف کیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن نے 2024ء میں دوبارہ صدارتی الیکشن لڑنے کا فیصلہ دراَصل ’لاپرواہی‘ اور ’اَنا‘ کے سبب کیا تھا۔

کمالا ہیرس کی کتاب 107 ڈیز کا ایک اقتباس امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ جب 81 سالہ جو بائیڈن کی انتخابی مہم جاری رکھنے پر سوالات اُٹھ رہے تھے تو اُنہوں نے اور دیگر ڈیموکریٹس نے یہ فیصلہ جوبائیڈن اور خاتونِ اول جِل بائیڈن پر چھوڑ دیا تھا۔

کمالا ہیرس لکھتی ہیں کہ جو بائیڈن کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا شرافت تھی یا لاپرواہی؟ جب میں اس سے متعلق سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ یہ لاپرواہی اور اَنا تھی۔

ہیرس اپنی کتاب میں لکھتی ہیں ’یہ صرف کسی ایک شخص کی اَنا یا ذاتی خواہش کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ ایک فیصلہ اجتماعی ذمہ داری سے ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ فیصلہ بہت بڑا تھا۔‘

یہ پہلا موقع ہے کہ جب کمالا ہیرس نے بائیڈن کے انتخابی فیصلے پر کُھل کر تنقید کی ہے۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے جولائی 2024ء میں ایک ٹی وی مباحثے کے بعد انتخابی دوڑ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

اس کے بعد کمالا ہیرس ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کے طور پر سامنے آئی تھیں لیکن ریپبلکن پارٹی کے رکن ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں شکست دے دی تھی۔

جوبائیڈن پر تنقید اور تعریف ساتھ ساتھ 

کمالا ہیرس نے اپنی کتاب میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ جو بائیڈن کی عمر اور تھکن نے مہم پر اَثر ڈالا۔

بقول اِن کے ’جو بائیڈن ٹرمپ سے زیادہ علم رکھنے والے، بہتر فیصلہ کرنے والے اور زیادہ ہمدرد رہنما تھے لیکن 81 برس کی عمر میں وہ کبھی کبھار تھک جاتے تھے۔‘

کتاب میں کمالا ہیرس نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ جو بائیڈن کے قریبی مشیران میڈیا میں اِ کے خلاف منفی خبریں پھیلاتے تھے اور منفی پروپیگنڈا کو ہوا دیتے تھے۔

’میری کامیابی بائیڈن کی کامیابی تھی‘

کمالا ہیرس لکھتی ہیں کہ ’میری کامیابی اِن کی کامیابی تھی، یہ اِن کی بصیرت کا ثبوت اور عوام کے لیے ایک یقین دہانی تھی کہ اگر صدر کے ساتھ کچھ ہوا تو میں ذمہ داری سنبھال سکتی ہوں لیکن ہماری ٹیم یہ بات سمجھنے میں ناکام رہی۔‘

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمالا ہیرس کی کتاب 107 ڈیز کا عنوان اِن کی مختصر صدارتی مہم کے دورانیے کی طرف اشارہ ہے، یہ کتاب 23 ستمبر کو باضابطہ طور پر شائع ہو گی۔



a href=”https://jang.com.pk/news/1509345″>Source link

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com