اسلام اباد، پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی دفاع کے لئے کسی سے بھی فوجی امداد نہیں مانگے گا۔ انہوں نے جمعہ کو ایرانی سفارتخانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایٹمی ھتیاروں کے بغیر اپنی دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اگر اسرائیل ایران کے ایٹمی تنصیبات، تیل کے ذخائر یا انفراسٹرکچر پر حملہ کرے گا تو ایران بھی ان کا ایٹمی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ صیہونی رژیم کو اسلحہ کی فراہمی بند کرے۔ سفیر کے مطابق اگر امریکا اسرائیل کی پشت پناہی بند کردے تو اسرائیل 6 ماہ میں قایم نہیں رھ سکتا۔
اسماعیل ہنیہ کی شہادت
تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت میں انٹلیجنس ناکامی سے متعلق سوال پر ایرانی سفیر نے کہا کہ جنگوں میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اور انٹلیجنس کی ناکامی کا تاثر درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے رہنما کو ان کے موبائل فون معلوم کرنے پر نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔
حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جولائی 31 کو اسرائیلی حملے میں
شہید ہوگئے تھے۔
اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے، ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک دیگر ممالک پر صیہونی رژیم کو تسلیم کرنے کا دباو دال رہے ہیں۔ ایرانی سفیر کے بقول اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل اسرائیلی جرائم کو روکنے کے لئے موثر اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ حق اور باطل اور اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ یہ عقیدہ کی جنگ ہے اوراسرائیلی رژیم عربوں کے قتل کو ثواب سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور ممالک کو دیکھنا پڑے گا کہ اسرائیل کے مقاصد کیا ہیں۔ اسرائیل جنگ کو توسیع دینا چاہتا ہے جس میں درحقیقت یہ رژیم اپنی بقا سمجھتا ہے کیوںکہ اس کو امریکا اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن ایران بھی تیار ہے اور ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ عراق کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کے ساتھ ایک میزائل بھی نہیں تھا لیکن اب ایران صرف اسرایئل پر ایک وقت میں 200 میزائل فائر کرتا ہے۔
امریکی انتخابات
امریکا میں نومبر5 کو ہونے الیکشن کے بعد نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ ایران کے تعلقات سے متعلق سوال پر رضا امیری مقدم نے کہا کہ الیکشن میں کوئی بھی جیتے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو بھی امریکا میں جیت جاتا ہے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ایران میں حکومت ختم ہوجائے۔ بھیڑئے اور کتے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں کوئی صدر یہودیوں کی حمایت کے بغیر نہیں بن سکتا۔
فلسطین سے متعلق پاکستان کا موقف
رضا امیری مقدم نے پاکستان میں فلسطینوں کی حمایت میں پوری قوم کے متحد ہونے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک کے لئے پاکستان کی پالیسی ایک مثال ہونی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور صیہونی رژیم کی ظالمانہ اقدامات اور قتل عام کی مذمت کے لئے ال پارٹیز کانفرنس کا بھی ذکر کیا جس میں اتحاد کا مظاہرہ کرکے پاکستان نے تاریخ رقم کی ہے اور کہا کہ پاکستان کی سوچ روشن فکرانہ اور بہتر ہے اوردیگر ممالک بھی فلسطین پر پاکستان جیسا رول ادا کرے
طالبان حکومت اور پاکستان میں کشیدگی
اس سوال پر کہ کیا ایران پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لئے ثالثی کے لئے تیار ہے تو انہوں نے کہا کہ ایران کی خواہش ہے کہ پاکستان اور افغانستان بین الاقوامی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اچھے ہمسائیگی والے تعلقات قایم رکھے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی سب ممالک کے لئے خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران افغانستان سے متعلق کئی فورمز پر بہت فعال رول ادا کررہے ہیں۔
ایران میں افغان مہاجرین
ایران میں افغان مہاجرین سے متعلق سوال پرانہوں نے کہا کہ ایران میں 6 تا 7 ملین افغان مہاجرین موجود ہیں اور ان کو ایرانیوں کی طرح سہولیات اور مراعات حاصل ہیں۔ بہت کم تعداد میں افغان مہاجرین کیمپوں میں رھ رہے ہیں جبکہ زیادہ تعداد عام لوگوں کی طرح شہری علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو وہ مراعات حاصل ہیں کو ایرانیوں کو حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی سکیورٹی کے لئے اقدامات اٹھائے۔


