افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اکرام الدین کامل کو ہندوستان کے شہر ممبئی میں امارت اسلامیہ کا قونصل جنرل مقرر کیا گیا ہے اور وہ وہاں قونصلر خدمات کے شعبے میں کام کریں گے۔ دریں اثناء افغان ذرائع نے ‘دی پاکستان ڈیلی’ کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر کامل بھارت پہنچ گئے ہیں اور اس طرح وہ اسلامی امارت افغانستان کے پہلے سفارتکار ہے جنہوں نے بھارت میں ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ بھارت کی جانب سے پہلے طالبان سفارتکار کی قبولیت سے بھارت نے طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات مزید مظبوط بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ افغان ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسلامی امارت نے بھارت کے لئے مزید سفارتکاروں کی نامزدگی کی گئی ہیں لیکن ڈاکٹر کامل پہلے سفارتکار ہیں جو ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے بھارت پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ دوسرے سفارتکار بھارت کی جانب سے پیغام ملنے کے بعد ہندوستان جائینگے۔ بھارت نے اس وقت تک طالبان کے اعلان سے متعلق کچھ بھی نہیں کہا ہے۔
افغان وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اپنے سفارتکار کی تعیناتی کا اعلان نومبر 11 کی شام کو کیا۔ ایک بھارتی صحافی کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نے ممبئی میں سفارتکار کی تعیناتی کی کوشش پہلے کی تھی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوئے تھے کیونکہ بھارت پہلے طالبان سفارتکار کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ یہ تقرری بھارت کے وفد کے دورہ کابل کے حالیہ دورہ کے بعد کی گئی ہے جو افغان عبوری حکومت اور بھارت کے درمیان سفارت تعلقات اور رابطوں میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔ انڈین وزارت خارجہ کے ایک اعلی اہلکار جے پی سنگھ کی قیادت میں بھارتی وفد نے افغان وزیر دفاع ملا یعقوب کے ساتھ ملاتات بھی تھی جو کہ ایک بھارتی وفد کی ملا یعقوب کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔ ملا یعقوب طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر مجاہد کے بیٹے ہیں۔ جے پی سنگھ بھارتی وزیر خارجہ سبریمنیم جے شنکر کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور وہ طالبان اور بھارت کو قریب لانے کے اہم کردار سمجھے جاتے ہیں۔ جے پی سنگھ کا نومبر 6 کا دورہ اس کا 9 ماہ میں افغانستان کا دوسرا دورہ تھا۔ بھارت کی جانب سے طالبان کے پہلے سفارتکار کو قبول کرنا ایک لحاظ سے طالبان کی سفارتکاری کی کامیابی ہے۔ اگرچہ بھارت سمیت کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن مغربی ممالک کے علاوہ روس اور چین سمیت کئی اہم ممالک نے طالبان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بڑھائے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان کے ممبئی میں قونصل جنرل ذکیہ وردگ نے اس سال مئی میں اس وقت استعفاء دیا تھا جب ان پربھارتی میڈیا میں سونا سمگل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا نے کہا تھا کہ ذکیہ وردک کو ائرپورٹ پر کچھ وقت کے لئے حراست میں بھی لیا گیا تھا۔ ذکیہ وردک نے سونا سمگلنگ کے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔ سابق افغان حکومت کے سفیر فرد ماموندزی نے گزشتہ سال نومبر میں نئی دہلی میں سفارتی ذمہ داریاں چھوڑ دی تھی اور بھارت پر تعاون اور ویزوں میں توسیع نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔
ممبئی میں تعینات کرنے والے طالبان سفارتکار کون ہیں؟
افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اکرام الدین کامل افغان وزارت خارجہ میں سکیورٹی اور سرحدی امور کے شعبے میں بھی کام کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر کامل پشتون ہیں اور ان کا تعلق مشرقی صوبے ننگرہار سے ہے۔ انہوں نے اسلامی یونیورسٹی اسلام اباد سے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے۔ بعد میں انہوں نے انڈیا کی ساوتھ ایشین یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی دگریاں حاصل کی ہیں۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے بھارت میں موجود تھے اور کبھی طالبان کے عہدیدار نہیں رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے سابق افغان حکومتوں کے تقریبا تمام سفارتکار بھارت سے چلے گئے ہیں اور طالبان کے سفارتکار کو ممبئی میں افغان قونصل خانے میں زیادہ کام ہونے کی وجہ سے تعینات کیا گیا ہے۔
پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
بھارت اور طالبان ایسے وقت میں قریب ہوگئے ہیں جب طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں اور رابطے بھی تقریبا معطل ہیں۔ مھاجرین اور تجارتی معلامات بھی تعلقات میں خرابی کے دیگر فیکٹرز ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس وقت طالبان حکومت اور پاکستان کے لئے تعلقات کو معمول پر لانا شائد ترجیحات میں شامل نہیں اور ایک دوسرے کے خلاف میڈیا میں ‘بلیم گیم’ جاری ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا سے ‘اینگیجمنٹ’ کی بات کرنے والا پاکستان خود افغان طالبان حکومت سے ‘ڈس اینگیج’ ہوگیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ وہ چند دنوں میں افغانستان کا دورہ کرینگے لیکن اج نومبر 12 تک وہ افغانستان نہیں گئے ہیں۔ ابھی تک کسی نے وضاحت ہی نہیں کی کہ وزیر خارجہ کا دورہ کابل کیوں نہیں ہوا؟ ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت کے خارجہ پالیسی بلکل بھی واضح نہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ خارجہ پالیسی پر سیاسی حکومت کی گرفت اگر ختم نہیں تو انتہائی کمزور ہوگئی ہے۔
ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پارلیمنٹ کا تو افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بولنے سے منع کیا گیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ رابطے کمزور ہونا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں اور اگر موجودہ حکومت کی پالیسی یہی ہو تو اپ افغانستان میں اپنے لئے اہمیت خود ختم کررہے ہیں۔ افغانستان کے لئے پاکستان کے خصوصی نمائندے اصف خان درانی کو 14 ستمبر کو عہدے سے ہٹا لیا گیا تھا اور تقریباً دو مہینے والے ہیں کسی نئے نمائندہ خصوصی کی تقرری نہیں کی گئی ہے جس سے افغانستان سے متعلق پاکستان کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ مسائل اس وقت تک حل ہوسکتے ہیں جب افغان پالیسی پر سول حکومت کا کنٹرول نہ ہو۔


