FeaturedNewsPakistan

یہ واضح نہیں ہے کہ مجھ پر حملہ کیوں کیا گیا: احمد نوارنی کی اہلیہ

لاہور: تحقیقاتی صحافی اور امریکہ میں سیاسی پناہ گزین احمد نوارنی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان پر حملہ کیوں کیا گیا۔

دی پاکستان ڈیلی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے عنبرین فاطمہ نے کہا کہ انہیں خود پر حملے کے کوئی واضح اور ٹھوس شواہد کا تو پتہ نہیں مگروہ اس حملے کے تانے بانے اپنے ان کالموں سے جوڑتی ہیں جو انہوں نے گزشتہ کچھ عرصہ میں ایک نیوز ویب سائٹ “ہم سب ” پر لکھے ہیں۔

عنبرین فاطمہ کا کہنا تھا کہ تھانہ غازی آباد کے علاقے تاج ہورہ سکیم میں جس جگہ ان پر گزشتہ روز حملہ ہوا وہ روزانہ اپنی بہن کے ہمراہ اسی راستے سے گزر کر شام کی واک کے لئے محلے کے قریبی پارک جاتی ہیں تاہم گزشتہ روز اپنی سوا دو سالہ بیٹی کے لئے کھلونا گاڑی خریدنے اپنی گاڑی پر گھر سے نکلیں۔

ان کی بہن اور اس کا کمسن بیٹا بھی ہمراہ تھے۔ ابھی وہ گھر سے نکلیں ہی تھیں اور گاڑی کی سپیڈ کچھ زیادہ نہ تھی کہ اچانک گلی سے ایک آدمی سامنے آیا اور اس نے کسی سخت یا آہنی چیز سے گاڑی کی ونڈ سکرین پر وار کیا۔ جس سے شیشے کی کرچیاں ٹوٹ کر مجھ پر گریں۔

اس دوران اس شخص نے اتنا کہا کہ “مار دوں گا “اور پھر بھاگ کر لاپتہ ہوگیا۔ جس سے وہ سخت خوف کا شکار ہوگئیں۔ اس وقت ان کے لئے گاڑی چلا نا بھی مسئلہ تھا۔

ایک سوال پر عنبرین فاطمہ کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی کسی نے فالو نہیں کیا اور نہ ہی کبھی دھمکی آمیز فون کالز آئی ہیں تاہم کچھ عرصہ سے انہوں نے نیوز ویب سائٹ” ہم سب” میں کچھ ایسے کالم لکھے ہیں جو ان پر حملے کی وجہ بن سکتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کس نوعیت کے ایشوز پر کالم لکھے تو عنبرین فاطمہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک کالم میں مذہبی تعلیمی اداروں میں جنسی واقعات کے بارے میں لکھا۔ اسی طرح ان کا ایک کالم ملک مذہبی تشدد کی بڑھتی لہر کے حوالے سے تھا جبکہ انہوں نے ایک کالم ججز کے بارے میں اور سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار کے نواز شریف کے خلاف فیصلوں کے بارے میں لکھا اور ان کی آڈیو کلیپ کے بارے میں لکھا۔

عنبرین فاطمہ کا کہنا تھا کہ اس دوران انہیں کسی قسم کی دھمکی آمیز فون کال نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تفتیش کے حوالے سے غازی آباد پولیس سے مکمل تعائون کر رہی ہیں اور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم اب انہیں تحفظ دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button