BlogFeaturedNewsPakistan

کیا ہم میں غیرت ختم ہو گئی؟

لاہور میں برطانوئی نژاد 25 سالہ مائرہ کا قتل ہو جاتا ہے, شادی سے انکار پر فیصل آباد میں بنت حوا گولیوں کا نشانہ بنتی ہے, اسلام آباد کی نور کسی جانور کی درندگی کی بھینٹ چڑ جاتی ہے۔ ان جیسی کئی معصوم لڑکیوں کی زندگی ختم ہو گئی لیکن ہماری بے حسی نہیں ختم ہوئی۔

کبھی کسی لڑکی کے گھر میں گھس کر اس پر تشدد کیا جاتا ہے تو کبھی گھر کے باہر اس پر تیزاب پھیک دیا جاتا ہے, کبھی موٹروے پر زیادتی کی جاتی ہے تو کبھی کسی گیسٹ ہاوس کے کمرے میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ہماری غیرت سوئی رہتی ہے۔

یہ سب کچھ اس لیے نہیں ہو رہا کہ معاشرے میں برداشت ختم ہو گئی ہے بلکہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ہم میں غیرت ختم ہو گئی ہے۔

اس ملک کا ہر باپ اگر آج یہ اعلان کر دے کے میرے بیٹے نے اگر کسی کی بیٹی کی زندگی چھینی تو میں خود اپنے بیٹے سے زندہ رہنے کا حق چھین لوں گا۔

اس ملک کی ہر ماں یہ فیصلہ کر لے کے میں کسی بچی پر ظلم کرنے والے کو برداشت نہیں کروں گی خواہ وہ میرا بیٹا ہی کیوں نا ہو۔

اس ملک کا ہر شخص فیصلہ کر لے کے میرے دل میں کسی ایسے شخص کے لیے کوئی ہمدری نہیں ہو گی جو کسی عورت پر ظلم کرے گا تو یقین جانیں کسی کی مجال نہیں ہو گی کہ وہ کسی خاتون سے زیادتی کا سوچ بھی سکے۔

Bilal Azmat

Bilal Azmat is a media studies and journalism graduate with 4 years experience of active journalism in TV & on SM

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button