BlogFeaturedNewsPakistan

مریم سے کیوں ڈرتے ہو؟

تم مریم سے کیوں ڈرتے ہو؟ تم مریم سے کیوں خوف کھاتے ہو؟ تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کیونکہ وہ اپنے باپ کی طاقت بن کر آپ جیسی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں آئی ہے، تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کیونکہ اس نے سیلیکشن کی بجائے “عوام کی حق حکمرانی” اور “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ بلند کیا ہے، تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کیونکہ اس نے تمہارے جوتے پالش کرنے کی بجائے تمہیں ٹھوکر مار کر عزت کی زندگی جینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کیونکہ اس نے عوام کو ان سارے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے جو کرتوت تم پچھلے ستر سال سے اس ملک میں کرتے آ رہے ہو، تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کہ اس نے تمہارے نظام عدل کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور جج ارشد ملک کی طرح زبردستی کیے گئے فیصلوں کو مکمل ثبوتوں کے ساتھ پوسٹ مارٹم کرکے پوری قوم کے سامنے رکھ دیے ہیں، تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کیونکہ اس نے تمہاری سمیش والی دھمکی کو جوتوں کے تلے روند کر تمہارے مقابلے میں کھڑی ہوگئی ہے، تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کیونکہ تم نے اس کو دو دفعہ اس کے باپ کے سامنے گرفتار کیا تاکہ مریم کی وجہ سے اس کے باپ کو تکلیف پہنچے لیکن سلام ہے بہادر باپ کی بہادر بیٹی کو جس نے ہمت و حوصلے کے ساتھ جیل کاٹنا گوارا کر لی لیکن اس ظالم قانون کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔

تمہیں مریم سے اس وجہ سے خوف ہے کیونکہ اس نے تمہاری وٹس ایپ جے آئی ٹی سے لے کر جج بشیر اور جج ارشد ملک کے کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے۔

یاد رکھو! طاقت اور زور کے استعمال سے کسی کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا، پوری دنیا میں کوئی بھی ایسا تجربہ کامیاب نہیں ہوا جس میں ظالم کو فتح نصیب ہوئی ہو۔

ترکی کے حالات کو دیکھ لیں، امریکہ نے رجب طیب اردوغان کے خلاف فوجی بغاوت کروانے کی کوشش کی لیکن فوجی بغاوت ناکام ہوگئی، عوام اپنے ووٹ کے تقدس کے لیے آمروں کے خلاف میدان میں آگئی اور یوں ترک قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوگئی۔ اسی طرح پاکستان کے اندر تین دفعہ میاں نواز شریف کی حکومت کو گرایا گیا، کبھی آمروں نے غدار بنا کر پیش کیا، کبھی کرپٹ بنا کر پیش کیا لیکن عوام نے ان سب الزامات کو ماننے سے انکار کر دیا اور قوم نواز شریف کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوگئی۔

آج پرویز مشرف جو نواز شریف کی سیاست ختم کرنا چاہتا تھا لیکن اپنا نام و نشان ختم کروا کر دبئی میں بیٹھ گیا، جہاں وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا علاج ممکن ہی نہیں ہے، یہ قدرت کے اٹل فیصلے ہوتے ہیں جو ظالموں پر آکر ہی رہتے ہیں۔

سابق چیف جسٹس اور پی ٹی آئی کے سپورٹر ثاقب نثار نے عدلیہ سمیت ہر ادارے کو شریف خاندان کے خلاف استعمال کیا، سیاست سے بےدخل کرکے پارٹی ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آج خود ختم ہوگیا اور اتنی ذلت و رسوائی اس کے ہاتھ میں آئی کہ جب بھی وہ گھر سے کسی کام کی غرض سے باہر نکلتا ہے تو قوم “ڈیم چور، پیسہ چور” جیسے الفاظ سے اس کا استقبال کرتی ہے۔ آج ثاقب نثار تھا، نواز شریف ہے، آج آصف سعید کھوسہ تھا، نواز شریف ہے، آج اعجاز افضل تھا، نواز شریف ہے، یہ جتنی مرتبہ بھی آئین کو توڑیں گے قوم انہیں جسٹس منیر کی صف میں کھڑا دیکھے گی۔

پاکستانی قوم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں دیکھنا چاہتی ہے، پاکستانی قوم ایسا روزگار چاہتی ہے جس سے اسکے گھر کا چولہا جل سکے، پاکستانی قوم ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف ان کے ساتھ کھڑا ہو، پاکستانی قوم ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے جو بیروزگاری کو ختم کر سکے۔ یقیناً ان تمام چیزوں کی ترقی کا راز مسلم لیگ ن کی قیادت کے پاس موجود ہے، سعد رفیق نے ریلوے کے نظام کو درست کیا، خواجہ آصف نے لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، میاں شہباز شریف صاحب نے دن رات محنت کرکے پنجاب کی قسمت کو بدل ڈالا جس سے پنجاب دوسرے صوبوں سے آگے نکل گیا۔

اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ جب بھی مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو وہ طویل المدتی میگا پروجیکٹس لے کر آئی، گلگت بلتستان ہو، آزاد کشمیر ہو یا پاکستان کا کوئی بھی کونا ہو وہاں پر مسلم لیگ ن کام بولتا ہوا نظر آئے گا۔ کچھ ہی دنوں کے بعد آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں، تمام پارٹیوں کے رہنما اپنی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری آج کل اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیلیکٹ ہونے کی جستجو کر رہے ہیں، جس کا ثبوت آئے دن مسلم لیگ ن کی قیادت پر تابڑ توڑ حملے کرنا ہے تو میری بلاول بھٹو سے گزارش ہے کہ آپ جتنا مرضی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن جائیں کشمیری قوم نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا ثبوت عوام نے مسلم لیگ ن کے جلسوں میں شرکت کی صورت میں دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ الله تعالٰی اس ملک پر اپنا خاص رحم و کرم نازل فرمائے تاکہ ہمیں ایک سنجیدہ لیڈر شپ عطاء ہو جو اس ملک کو ترقی کی بلندیوں کی طرف لے جائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button