BlogFeaturedNewsPakistan

سگریٹ کی غیر قانونی فروخت اور قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

پاکستان میں جہاں کئی ایسی انڈسٹریاں موجود ہیں جو غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے انھی میں سے ایک سگریٹ انڈسٹری بھی شامل ہے جو غیر قانونی فروخت, ٹیکس چوری اور سمگلنگ کے باعث قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

سگریٹ کی غیر قانونی فروخت کو سمجھنے سے قبل اس بات کو جانا ضروری ہے کہ پاکستان میں سگریٹ قانونی طور پر کیسے فروخت کیا جاتا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سگریٹ کے ڈبے پر تقریبا 42 روپے کا ایکسائز اور سیلز ٹیکس شامل ہوتا ہے جس سے مارکیٹ میں فروخت ہونے والے سگریٹ کے ڈبے کی قیمت کم سے کم 63 روپے ہوجاتی ہے۔

جبکہ غیر قانونی سگریٹ کے بارے میں بات کریں تو پاکستان میں دو طرح کے غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری پائے جاتے ہیں. ایک وہ سگریٹ جن کو اسمگل کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ ڈیوٹی ٹیکس دیتے ہیں اور نہ صحت کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔

دوسری قسم کے غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری وہ ہیں جو تیار تو ملک میں ہی ہوتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے جس کے باعث یہ پیک زیادہ سستے داموں مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں اور ان کی قیمت لگ بھگ 25 روپے یا اس سے کم فی پیکٹ بھی ہوتی ہے۔

سگریٹ کی غیر قانونی فروخت کے باعث حکومت کو سالانہ 77 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان تمباکو پر کنٹرول کے عالمی ادارہ صحت کےفریم ورک کنونشن کا دستخطی ہے جس کے تحت حکومت پاکستان تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کیلئےٹیکسوں میں اضافے کی پابند ہے جبکہ سگریٹ انڈسٹری حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ اکانومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 70 سے80 ارب سگریٹ کی اسٹکس اسموک کی جاتی ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ایشیاء کے 16 ممالک میں غیر قانونی سگریٹ کے استعمال میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے۔

دوسری جانب 2013 کے اعداد و شمار کو جانچا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ کا استعمال عام مارکیٹ میں 22 فیصد تھا جو آپ 40 فیصد ہوگیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اس بات کا انکشاف کیا کہ “سگریٹ انڈسٹری کی دو بڑی کمپنیاں جن کا مارکیٹ شیئر تقریبا 60 فیصد ہے 98 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری جس کا مارکیٹ شیئر 40 فیصد ہے صرف 2 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہے”۔

دوسری جانب بعض این جی اوز نے یہ دعویٰ بھی کر رکھا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت 9 فیصد ہے لیکن اس میں وہ صرف سمگل شدہ سیکرٹ شامل کرتے ہیں۔ سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ “پاکستان میں سب سے زیادہ غیر قانونی تجارت سگریٹ انڈسٹری میں ہے۔”

سرکاری اور این جی او کے اعداد و شمار ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ اس بات سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر کیوں این جی اوز اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کر رہے ہیں یا تو حکومت بھی بالکل لاعلم ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں سے سگریٹ کے استعمال میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور یہی وہ غیر قانونی سگریٹ ہیں جن کے پیکٹ ملک کے مختلف علاقوں میں باآسانی سستے داموں میں دستیاب ہوجاتے ہیں اسی لیے یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے جیسے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ ہورہا ہے ان غیر قانونی سگریٹ کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان غیر قانونی سگریٹ کی وجہ سے تمباکو کی صنعت پر بھاری ٹیکس لگانے کی پالیسی ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ٹیکس قانون مارکیٹ میں فروخت ہونے والے تمام سگریٹ پر لاگو کردیا جائے تو حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس وصول ہوسکتا ہے۔

خیر حکومت کو چاہیے کہ سگریٹ انڈسٹری میں مزید ٹیکس لگانے کے بجائے غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچررز کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ کر کے ٹیکس نیٹ میں شامل کریں تاکہ ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔

Raja Furqan Ahmed

Raja Furqan Ahmed is the News Editor of The Pakistan Daily.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button