BlogFeaturedNewsPakistan

جولائی 13، ایک سیاہ دن، ایک لمحہ فکریہ

یوں تو ہمارے ملک کے اندر ہر تھوڑے عرصے کے بعد کوئی نا کوئی ایسا حادثہ ضرور پیش آ جاتا ہے جو قوم کو ایک ساتھ یکجاں کر دیتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ایمبولینس میں وفات کا تذکرہ ہو یا لیاقت علی خان کو بھرے مجمعے میں گولی مار کر شہید کرنے کا تذکرہ ہو، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو غدار وطن ثابت کرنے کا تذکرہ ہو یا فائز عیسیٰ فائز کو ملک دشمن عناصر کے ساتھ تشبیہ دینے کا معاملہ ہو، ہر دور میں قومی سطح پر ایسے حادثات ضرور پیش آتے رہے ہیں جن کو قوم نے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے سینوں میں محفوظ کیا ہوا ہے۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی یہی ہے کہ کسی بھی بڑے لیڈر کے ساتھ ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے ملزمان کبھی بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ میں نہیں آئے، لیاقت علی خان شہید کے ورثاء آج تک انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں، محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قاتل آج تک نہیں پکڑے گئے، جسکی وجہ سے ہمارے ملک کا بین الاقوامی سطح پر امیج بہت زیادہ خراب رہا ہے، کبھی چلتی جمہوریت اور ترقی کرتے ملک کو بریک لگوا کر جمہوریت کا شب و خون کیا گیا اور کبھی سیاستدانوں کو مختلف اذیتیں دے کر شہید کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے اوپر اعتبار کرنے کو تیار نہیں، وہ ہمیں ہمیشہ دہشتگرد ریاست سے تشبیہ دیتے ہیں، جس سے ہمارے ملک کی قوم کی عزت کو بہت زیادہ اذیت پہنچتی ہے۔

حال ہی میں تمام ملکی ادارے اپنے حلف کو پش پشت ڈال کر “شریف برادران” اور ان کی فیملی کے خلاف ہر غیر آئینی طریقہ اپنا رہے ہیں۔ ملک کے تین دفعہ کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نااہل کرنے کا فیصلہ ہو یا انکے خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہو، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی گرفتاری کا معاملہ ہو یا انکے خلاف جھوٹے کیسز کا تذکرہ ہو، ہمارے ملکی اداروں نے چند مفاد پرست عناصر کو دلی تسکین پہنچانے کے لیے انکے خلاف ہر فیصلہ ماورائے عدالت کے ذریعے کیا ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ن لیگ کی حکومت کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے بہت سے ایسے کیسز پر سوموٹو نوٹس لیے جن کو بعد میں سپریم کورٹ کے فیصلوں نے بڑی شرمندگی کے ساتھ ختم کیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف سے ذاتی عناد رکھنے کی وجہ سے بہت سے ایسے رفاہی کاموں کو ختم کیا جس سے پاکستانی قوم کو نقصان پہنچا۔ سب سے اہم اور مشہور قصہ “لاہور جگر اور گردے کے ہسپتال” کو اپنے بھائی کے کاروبار کی خاطر بند کر دیا، اس ہسپتال کی تعمیرات کو سوموٹو نوٹس لے کر بند کیا اور اس ہسپتال کے ایم ایس کو گھر بلاکر جھاڑ پلائی اور بعد ازاں عہدے سے ہٹا دیا۔ ہر دور میں عدلیہ نے ایسے فیصلے ضرور کیے ہیں جس سے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہو۔

میاں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالتوں کو ڈائریکشنز دینی ہو یا احتساب عدالت کے ججز کے اوپر نگران جج مقرر کرنے ہوں، بالآخر جج ارشد ملک قوم کو حقیقت بتانے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ جج ارشد ملک نے ہر اس عناصر کو بےنقاب کیا ہے جو اس گھناونے دھندے میں ملوث تھا۔ جج ارشد ملک کے مطابق ملکی اداروں کے پاس انکی تیس سال پرانی گندی ویڈیو موجود تھی جس کی وجہ سے وہ بلیک میل ہوئے اور نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے جبکہ دوسری ویڈیو میں وہ انکشاف کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جج ارشد ملک کو اپنے چیمبر میں بلا کر نواز شریف اور مریم نواز کو 14، 14 سال قید کی سزا دینے کا حکم دیا جس پر جج ارشد ملک نے کہا کہ آپ شکر ادا کریں کہ میں نے آپ کو ایک کیس میں بری کر دیا اور دوسرے کیس میں سات سال کی سزا سنائی ورنہ میرے اوپر پریشر دونوں کیسز میں سزائیں سنانے کا تھا، یہ واضح ثبوت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے ہیں لیکن ان ثبوتوں کو ن لیگ کی قیادت نے میڈیا کے سامنے پیش کرنے کو مناسب نہیں سمجھا اور جب انکا مؤقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف جب چاہیئں گے وہ ان ویڈیوز کو میڈیا کے ساتھ شئیر کر دیں گے۔ لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے خلاف سازشی عناصر سرگرم ہیں اس کے باوجود میاں نواز شریف اپنی بیوی کو کینسر جیسی موذی مرض میں چھوڑ کر اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان تشریف لائے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھ گئے، اگر انکو وطن سے محبت نہ ہوتی اور اگر انہوں نے کرپشن کی ہوتی تو وہ کبھی بھی اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالتے بلکہ ڈیل کرکے ان سارے کیسز کو ختم کروا سکتے تھے لیکن انہوں نے “آئین و قانون کی بالادستی” اور “ووٹ کی عزت” کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر موجودہ کٹھ پُتلی حکومت کے ہر ظلم و ستم کو بہادری کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انکی بیٹی مریم نواز شریف اپنے باپ سے ملنے کوٹ لکھپت جیل گئی تو نیب نے مریم نواز کو انکے سامنے گرفتار کر لیا، یہ گرفتاری محض نواز شریف کو پریشانی پہنچانے کے لیے دی گئی تھی لیکن وہ کڑا وقت بھی میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے بہادری کے ساتھ برداشت کیا، اسی طرح حمزہ شہباز کو بیگناہ تین سال سے زائد جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا اور میاں شہباز شریف کو دو دفعہ نیب نے جھوٹے کیسز میں گرفتار کر کے جیل میں بھیجا لیکن وہی کیسز بعد میں نیب کو عدالت میں درخواست دائر کر کے بند کرنے کی سفارش کرنی پڑی۔

یہ سب وقت، یہ سب لمحات، یہ سب فیصلے ہمیں یہ سبق دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ عوام کی جتنی مرضی خدمت کر لیں، ملک کے ساتھ جتنی مرضی وفاداری نبھا لیں لیکن اگر آپ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کریں گے تو آپ کے ساتھ یہی حشر کیا جائے گا، مگر شریف برادران کے قدم کبھی بھی نہ ڈگمگائے اور اس ظلم کا سامنا بہادری کے ساتھ کرتے ہوئے نظر آئے۔ 13 جولائی کا دن ہم سب کے لیے “یوم سیاہ” کے ساتھ ساتھ “یوم وفا” بھی ہے جس دن تمام کارکنان اپنی ناراضگی کو ختم کرکے آگے بڑھے اور سول بالادستی کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے میاں نواز شریف کی جدوجہد کے ساتھ شریک ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button