Tuesday, October 13, 2026 · Petrol Rs 395.37 · USD/PKR 277.05 · Gold Rs 439936/tola
Breaking
The Lahore Canal We Deserve: Turning a Familiar Waterway into a Living Solution for the City’s Environmental Crisis KSE-100 Sheds 1,965 Points as KP Emergency Rattles Investors Ousted KP Chief Minister Taken Into Preventive Custody Who Runs Khyber Pakhtunkhwa Now: Governor, Council and Secretariat Four Young Men Killed by Landmine Near the Line of Control UNDP Says 38.3% of Pakistanis Face Multidimensional Poverty Apex Committee Meets Under Governor’s Rule, Vows Continued Operations OIC Condemns Houthi Attacks on Saudi Arabia, Reaffirms Support for Kingdom’s Security Iran Says It Struck a Tanker in the Strait of Hormuz Omani Foreign Minister Arrives for Joint Commission Talks Houthi Official Warns US of ‘Swift and Painful Response’ Over Possible Yemen Intervention Shehbaz Forms Dar-Led Committee to Oversee Khyber Pakhtunkhwa Affairs Five Killed, Dozens Injured as Rehman Baba Express Derails Near Multan IMF Warns AI Could Disrupt 60% of Jobs in Advanced Economies, Calls for Rethinking Tax Policies Five Killed as Rehman Baba Express Derails Near Multan Two Army Pilots Killed as Training Aircraft Crashes in Quetta IMF Raises Pakistan’s Inflation Forecast to 9.9 Percent Diesel Is Dearer Than Petrol Again as Prices Cross Back Dar Says There Was No Option Left but Emergency in KP Gold Falls Rs2,100 a Tola as Bullion Slips $21 an Ounce
Blog

تیسرا فریق

پہلے 3 مارچ کو سینٹ کے الیکشن ہوئے اور حال ہی میں 12 مارچ کو سینٹ چیئرمین کا الیکشن ہوا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سینٹ الیکشن میں نہ حکومت جیتی اور نہ ہی اپوزیشن ۔ بظاہر تو حکومت اور اپوزیشن کا کانٹے دار مقابلہ تھا لیکن اس میں جیت ایک تیسرے فریق کی ہو گئی۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو جناب یہ ایسا ہوا کہ پہلے سینٹ الیکشن ہوئے جس میں اسلام آباد کی نشست پر عددی اکثریت والے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ ( جس کی مہم خود وزیراعظم عمران خان نے چلائی) کو ہرا کر حکومت کو یہ میسج دیا گیا کہ یہ عددی اکثریت, یہ اقتدار سب کچھ ہماری وجہ سے ہے اور ہمارے بغیر آپ کی اوقات ایک سینٹ کی سیٹ نکالنے کی بھی نہیں ہے۔

خیر سینٹ الیکشن ہو گئے اور اپوزیشن کو سینٹ میں عددی اکثریت مل گئی ۔ اپوزیشن نے کہا کہ ہمارے پاس اکثریت آگئی ہے اب ہمیں اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین لانے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تو ایسے میں اسی تیسرے فریق نے اپوزیشن کو بھی وہی پیغام دینے کا پلان بنایا جو وہ حکومت کو دے چکے تھے۔

مارچ کو سینٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوا ۔ یہاں ایک بار پھر عددی اکثریت رکھنے والی اپوزیشن کو ناکام کر کے ان کو بھی یہ پیغام دیا گیا کہ ہمارے بغیر آپ کی بھی یہی اوقات ہے ۔

اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی طاقتوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ وہ سیاسی ضرور ہیں لیکن طاقت کوئی اور ہے۔

یہی وہ طاقت ہے جو 73 سال سے پاکستان کے سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے اور ابھی بھی معیشت ہو یا سیاست, فارن پالیسی ہو یا دفاع سب کچھ ان ہی کی مرضی سے ہوتا ہے۔

سینٹ کے الیکشن ایک جمہوری عمل تھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس جمہوری عمل کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان میں جمہوریت کتنی کمزور ہے ۔ یہاں اکثریت کی رائے سے زیادہ, عسکریت کی رائے اہم ہوتی ہے۔

ایک طرف یہ جمہوریت کی ناکامی تو ہے ہی لیکن دوسری جانب یہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر کس طرح کے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لا رہے ہیں جو حقیقت میں نہ جمہوری ہیں اور نہ ہی ان کی وفاداریاں پارٹی کے ساتھ ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیتے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ سیاست کو جلد از جلد عسکریت پسندوں کے اس ٹولے سے پاک کریں۔

Hamza Azhar SalamEditor — Hamza Azhar Salam · Write to us with suggestions or tips
Powered by: Frontpage.dev
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com