BlogFeaturedNewsPakistan

بے نمازی کا انجام

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ اللہِ لِلْمُتَّقِیْنَ وَالصَّلٰوۃُوَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ.
نماز دینِ اسلام کے فرائض میں سب سے اہم فریضہ ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ایمان اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کو قرار دیا گیا ہے، بے نمازی کا انجام فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں کم و بیش سات سو مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے جن میں سے 80 مقامات پر صریحاً نماز کا حکم وارد ہوا ہے۔ الله تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ: ” فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ ( پ۳۰،الماعون:۴،۵) ترجمہ:تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔” الله تعالٰی نے قرآن مجید میں اور بہت سی آیات نماز کے متعلق نازل فرمائی ہیں۔ فرمایا: ” وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِيْنَo (البقرة، 2 : 43) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کرو۔‘‘ ایک اور جگہ پر فرمایا: ” فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلاَةَ فَاذْكُرُواْ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًاO (النساء، 4 : 103) پھر (اے مسلمانو!) جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو، پھر جب تم (حالتِ خوف سے نکل کر) اطمینان پالو تو نماز کو (حسبِ دستور) قائم کرو۔ بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے۔‘‘ اور جو شخص اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتا ہے تو اس شخص کے بارے میں الله تعالٰی فرماتے ہیں: ” وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىO (طه، 20 : 132) اور آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم فرمائیں اور اس پر ثابت قدم رہیں، ہم آپ سے رزق طلب نہیں کرتے (بلکہ) ہم آپ کو رزق دیتے ہیں، اور بہتر انجام پرہیزگاری کا ہی ہےo‘‘
نماز تو جنت کی کنجی ہے، امت محمدیہ سے پہلے جتنی بھی امتیں الله تعالٰی نے اس روح زمین پر بھیجی تو ان پر نماز کی ادائیگی کو لازمی قرار دے دیا گیا۔ الله تعالٰی نے بنی اسرائیل کے واقعے کو قرآن مجید کی سورۃ المائدہ میں ارشاد فرمایا کہ: “اور بیشک اﷲ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور (اس کی تعمیل، تنفیذ اور نگہبانی کے لئے) ہم نے ان میں بارہ سردار مقرر کئے، اور اﷲ نے (بنی اسرائیل سے) فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں (یعنی میری خصوصی مدد و نصرت تمہارے ساتھ رہے گی)، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور تم زکوٰۃ دیتے رہے اور میرے رسولوں پر (ہمیشہ) ایمان لاتے رہے اور ان (کے پیغمبرانہ مشن) کی مدد کرتے رہے اور اﷲ کو (اس کے دین کی حمایت و نصرت میں مال خرچ کرکے) قرضِ حسن دیتے رہے تو میں تم سے تمہارے گناہوں کو ضرور مٹا دوں گا اور تمہیں یقیناً ایسی جنتوں میں داخل کر دوں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ پھر اس کے بعد تم میں سے جس نے (بھی) کفر (یعنی عہد سے انحراف) کیا تو بیشک وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔”
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو نماز کے معاملے میں سستی کریگا اللہ عزوجل اسے پندرہ (15) سزائیں دے گا۔ان میں سے چھ دنیا میں ،تین موت کے وقت ،تین قبر میں اور تین قبر سے نکلنے کے بعد ہوں گی ۔

دنیاکی چھ سزائیں یہ ہیں: (۱)اللہ عزوجل اس کی عمر سے برکت ختم کردے گا(۲)اللہ عزوجل اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادے گا (۳)اللہ عزوجل اس کے کسی عمل پر اجر وثواب نہ دے گا (۴)اس کی کوئی دعا حق تعالیٰ آسمان تک بلند نہ ہونے دے گا (۵) دنیا میں مخلوق اس سے نفرت کرے گی اور (۶) نیک لوگوں کی دعا میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔

موت کے وقت کی تین سزائیں یہ ہیں:(۱)ذلیل ہوکر مرے گا (۲)بھوکا مرے گا(۳)مرتے وقت اتنی سخت پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی اسے پلا دیا جائے تو پیاس نہ بجھے گی ۔

قبر میں تین سزائیں یہ ہوں گی: (۱) اللہ عزوجل اس پر اس کی قبر تنگ کر دے گا اور قبر اسے اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھو ٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی (۲)اس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی جس کے انگاروں میں وہ دن رات اُلٹ پلٹ ہوتا رہے گا (۳)اس پر ایک اژدھا مُسلَّط کر دیا جائے گا جس کا نام ’ ‘اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع (يعنی گنجا سانپ ) ہے ” اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہوں گے ہر ناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت کے برابر ہو گی، وہ گرج دار بجلی کی مثل آواز میں کہے گا:” مَیں اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع ہوں ،مجھے میرے رب عزوجل نے حکم دیا ہے کہ میں تجھے فجر کی نماز ضائع کر نے کے جرم میں صبح تا وقتِ ظہر اور نمازِ ظہر ادانہ کرنے پر ظہر تا عصر،نمازِ عصر ضائع کر نے پر عصر تا مغرب، نمازِ مغرب نہ پڑھنے پر مغرب تا عشاء اور نمازِ عشاء ضائع کرنے پر (عشاء سے)صبح تک مارتا رہوں۔ ”اور جب بھی وہ ایک ضرب لگائے گا تو مردہ ستر (70 )ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا تو وہ اپنے ناخن زمین میں داخل کر کے اس کو نکالے گا اور یہ عذاب اس پر قیامت تک مسلسل ہوتا رہے گا ۔ ”(ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہيں)
قیامت کے دن کی تین سزائیں یہ ہیں: (۱) اللہ عزوجل اس پرایک فرشتہ مسلط کردے گا جو اسے منہ کے بل گھسيٹتے ہوئے جہنم کی طرف لے جائے گا(۲) حساب کے وقت اللہ عزوجل اس کی طرف ناراضگی والی نظر سے ديکھے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑ جائے گا(۳)اللہ عزوجل اس کا حساب سختی سے لے گا جس سے زیادہ سخت و طویل کوئی عذاب نہ ہو گا،اللہ عزوجل اس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم صادر فرمائے گااور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے ۔
رسولِ اَکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے: ”جب کوئی قصداً ایک فرض نماز چھوڑ دیتا ہے تو اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں کا جہنم میں داخلہ لازم ہوگیا۔
رسولِ اَکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :”اللہ تعالٰی صحت کی حالت میں نماز چھوڑنے والے کی طرف نہ نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ اس کو پاک کریگا اور اس کے لئے درد ناک عذاب ہے مگر یہ کہ وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ کرے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
آج ہمارا المیہ کیا ہے؟ کیا آج ہم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں؟ کیا ہم حی علی الصلاۃ کی آواز سن کر اپنے کاروبار کو بند کرکے مساجد کی طرف نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں؟ کیا ہم ارکان اسلام کو مکمل پابندی کے ساتھ ادا کر رہے؟ اگر ان سب باتوں کا جواب ناں میں ہے تو الله تعالٰی کی پکڑ بہت سخت آنے والی ہے۔ آج ہمارے پاس دنیا کے کام کاج کے لیے وقت ہے لیکن جس خالق نے ہمیں پیدا کیا اور ہماری روزی کا بندوست کیا اس کے آگے سر جھکانے کا ٹائم نہیں ہے۔
میرے عزیزو! نماز کی پابندی لازمی کریں، قیامت والے دن بھی سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر ہم پانچ وقت کے نمازی ہوں گے تو ہم کامیاب قرار پائے گے اور اگر ہم نے نماز سے منہ موڑا ہوگا تو الله تعالٰی قیامت والے دن ہم سے منہ موڑ لے گا۔ الله تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نماز پڑھنے کی ہمت و توفیق عطاء فرمائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی نماز کا پابند بنائے۔ وما علینا الاالبلاغ المبین

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button