BlogFeaturedNewsPakistan

اووسیز ووٹنگ رائٹس کی تاریخی جدوجہد اور حقائق

اووسیز ووٹنگ رائٹس کی جدوجہد 1970 سے مختلف ممالک میں جاری تھی لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو پہلی مرتبہ ووٹ کا حق سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 میں یاسمین کیس کے ذریعے دیا اور اس میں یہ کہا کہ موجودہ حکومت کمیٹی تشکیل دے اور کمیٹی یہ Find out کرے کے کونسا ووٹنگ میکنزم ہونا چاہئے۔

بعد ازاں 2011 تک اس میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی بس کمیٹیاں بنتی اور ٹوٹتی رہی مگر کوئی میکنزم نہ بن سکا. 2011 میں چند اوورسیز پاکستانی اور تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری عارف علوی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دی کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہئے۔

افتخار چوہدری جسٹس کے بینچ نے اس کیس کو سنا اور 2013 کے الیکشن سے 10 دن قبل ایک عام سا میکنزم تشکیل دیا جو الیکشن کمیشن کی مدد سے تشکیل دیا گیا۔

وہ آرڈیننس بابت میکنزم کی عمر صرف 4 ماہ تھی اور اسمیں کہا گیا کہ پارلیمنٹ اس آرڈیننس کو بل کی شکل دے لیکن نئی حکومت نے 2013 میں اسمیں عمل نہیں کیا۔ پھر اس وقت سپیکر اسمبلی نے ایک الیکٹورل ریفارم کمیٹی تشکیل دی جسمیں ایک سب کمیٹی اوور سیز ووٹنگ رائٹس کیلئے تھی اسکا سربراہ ڈاکٹر عارف علوی کو بنایا گیا۔ کمیٹی نے ان 4 سالوں میں 65 میٹنگنز کیں مگر کوئی بھی ووٹنگ میکنزم نہ بن سکا۔

2013 میں(USA) Connecticut سے تعلق رکھنی والی / امریکی نژاد پاکستانی ڈاکٹر فرحت صدیقی نے داﺅد غزنوی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی اور یہ استدعا کی کہ پاکستانیوں کو ووٹنگ رائٹس ملنے چاہیے اور سپریم کورٹ کی 2013 والی judgment پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

جب اگلی تاریخ پر الیکشن کمیشن اور NADRA سپریم کورٹ میں پیش ہوئی تو چیف جسٹس نے ان دونوں سے استفسار کیا کہ 8 سے 9 ملین پاکستانی کس میکنزم کے ذریعے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ چیئرمین نادرہ نے کہا کہ وہ آئی ووٹ سسٹم جس کوInternet Voting کہا جاتا ہے کا میکنزم بنا سکتا ہوں۔ چیف جسٹس نے ان کو 8 ہفتوں کا ٹائم دیا تاکہ ووٹنگ میکنزم تیار ہوسکے۔ مئی 2018 میں جب یہ مقدمہ دوبارہ لگا تو ووٹنگ میکنزم کی presentation سپریم کورٹ میں ہوئی۔ یہ پاکستان کی سپریم کورٹ کا واحد مقدمہ ہے جسکی ایک سماعت revised ہوئی اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بلایا گیا۔ ووٹ میکنزم کا Presentation کامیاب رہا۔ پھر سپریم کوٹ نے ایک آئی ٹی کمپنی جس کا نام Bulter ہے کویہ ٹاسک دیا کہ وہ اس میکنزم کی خفاظتی نظام کو چیک کرے کیونکہ 2018 کے عام انتخابات قریب آچکے تھے اس وجہ سے Third Party Assessment کو زیادہ وقت درکار تھا اس وجہ سے یہ میکنزم 2018 کے الیکشن میں استعمال نہ ہوسکا لیکن یہ حکم دیا گیا کہ Case جنرل الیکشن کے بعد لگایا جائے اور Assessment رپورٹ کو دیکھا جائے۔

جب دوبارہ اگست 2018 میں case لگا تو رپورٹ میں کہا گیا کہ میکنزم فل پروف ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اکتوبر 2018 کے 35 نشستوں کے ضمنی انتخابات میں بطور پائلٹ پراجیکٹس چیک کیا جائے۔ ضمنی انتخابات میں یہ میکنزم استعمال ہوا اور رزلٹ بالکل درست نکلے۔ لیکن پھر الیکشن کمیشن نے بغیر کسی انٹرنیشنل I.T ایکسپرٹ کی تحقیق کے اعتراضا ت اٹھائے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پٹیشن کو Representation بنا کر ریفرنس کر دیا جو الیکشن کمیشن آف پاکستان بھیج دیا گیا۔ 2014 میں چیف الیکشن کمیشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان نے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔ داﺅد نے ووٹنگ میکنزم کے بارے میں مختلف دلادیئے۔ اس بینچ نے فیصلہ یہ دیا کہ پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کے ساتھ ملکر ووٹنگ میکنزم پر کام کرے اور 2018 کے الیکشن میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع ملے۔ جب 2015 تک اس آرڈر پر عملدرآمد نہیں ہوا تو پھر داﺅد غزنوی نے 14 مختلف ممالک سے ساٹھ سے زیادہ اوورسیز پٹیشنر بنائے اور ان کو سپریم کورٹ میں لے گیا۔

جب سپریم کورٹ نے یہ مقدمہ سنا تو سپریم کورٹ نے بیرسٹر داﺅد غزنوی سے کہا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹی میکنزم پر کام کر رہی ہے لہذا آپ تھوڑا انتظار فرمائیں۔ 2018 کے شروع میں جب پارلیمنٹ کی کمیٹی جس کی سربراھی ڈاکٹر عارف علوی کر رہے تھے جب وہ ووٹنگ میکنزم میں ناکام ہو گئی پھر یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ جس کی سربراھی چیف جسٹس ثاقب نثار جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹر عمر عطاء بندیال کر رہے تھے وہاں داﺅد غزنوی نے عدالت کو مطلع کیا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹی ووٹنگ میکنزم بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی وقت الیکن کمیشن کے سیکرٹری کو طلب کیا اور رپورٹ مانگی سیکٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب پارلیمنٹ کی کمینٹی ووٹنگ میکنزم بنانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین نادرا، منسٹری آف انٹیرئیر وزارت خارجہ، OPF کو نوٹس جاری کیے۔ اسی دوران موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی اس پٹیشن کا بھی فریق بن گئے۔

گزشتہ 70 سال سے سیاستدان ووٹنگ رائٹس کی بات کرتے تھے لیکن کبھی بھی کسی نے میکنزم نہ بنا یاتھا ۔ لیکن کریڈٹ سپریم کورٹ آف پاکستان اور ان اوورسیز Petitioners جن کی سربراہی داﺅد غزنوی کررہے تھے آخر کار ان کو جاتا ہے۔

جب 2021 میں ووٹنگ رائٹس کا بل منظور ہوا اس میں آئی ووٹ کا ذکر نہیں لیکن یہ کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اوورسیز پاکستانیوں کے Voting Right کےلئے NADRA سے یا کسی اور ایجنسی سے معاونت حاصل کرسکتی ہے۔

چیئرمین نادرہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ووٹنگ رائٹس کےلئے نادرا سے معاونت نہیں لینا چاہتی ۔ اب سوال یہ ہے کہ آئی ووٹ کا میکنزم جو 16 کروڑ کی لاگت سے بنا تھا اب التواء کا شکار ہوجائیگا ۔ اب موجودہ تناظر میں دوہی راستے ہیں ایک یہ کہ الیکشن کمیشن NADRA کی معاونت سے آئی ووٹ بحال کرے یا داﺅد غزنوی ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کریں جس میں استدعا کی جائے گی کہ الیکشن کمیشن کو طلب کرکے استفسار فرمایا جائے کہ اس آئی ووٹ میکنزم کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں تاکہ ان کا ازالہ کیا جاسکے۔

“جس مشہور زمانہ مقدمہ کی وجہ سے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق اور طریقہ کار ملا اس کا عنوان ذیل ہے”

PLD 2018 SC 788
& PETITIONERS DR. FARHAT JAVED SIDDIQUE
Vs
Federation of Pakistan

Dawood Ghazanavi

Dawood Ghazanavi is an attorney in Pakistan who take up public interest cases in the Supreme Court and high courts of Pakistan. He is the author of two books 1: think ahead and 2: Aafia Unheard. He also speaks at various US-based think tanks on US/Pak relations.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button